ابنا: رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے علاقے کے حالات اور تیونس، مصر، بحرین، یمن اور لیبیا کے عوامی انقلابات کو انتہائی اہم تبدیلیاں سے تعبیر کیا۔ نئے ہجری شمسی سال سنہ 1390 ہجری شمسی کے آغاز پر رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پیر کے روز فرزند رسول حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ اقدس میں عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اہم ترین ملکی امور اور علاقائی تغیرات پر روشنی ڈالی۔ خطے کی عوامی تحریکوں کے محرکاتآپ نے علاقے کی عوامی تحریک کو بہت اہم اور عرب و اسلامی خطے میں بنیادی تبدیلی اور امت اسلامیہ کی بیداری کی نوید سے قرار دیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ان تحریکوں کی دو اہم ترین خصوصیتیں ہیں، ایک ہے عوام کا پوری طرح میدان میں آ جانا اور دوسرے ان کی دینی و معنوی شناخت۔ رہبر انقلاب اسلامی کے مطابق علاقے میں ان تحریکوں کے وجود میں آنے کی اصلی وجہ ظالم حکام کے غلط روئے کے باعث خطے کے عوام کے وقار اور غیرت و حمیت کا مجروح ہونا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مثال کے طور پر مصر میں حسنی مبارک کا طرز عمل اور صہیونی حکومت کی نمائندگی میں خاص طور پر غزہ کے سلسلے میں انتہائی مجرمانہ اقدامات کی انجام دہی، لیبیا میں قذافی کی کارکردگی اور مغرب کی کھوکھلی دھمکیوں اور معمولی وعدوں کے بدلے میں ملک کے ایٹمی وسائل کو امریکہ کے سپرد کر دینا، ایسے اقدامات تھے جن سے عوام کی غیرت اور حمیت کو ٹھیس پہنچی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: ہمارے بہت سے نوجوان 22 روزہ اسرائیلی جارحیت کے دوران ایئرپورٹ پہنچ کر غزہ جانے کی کوشش کررہے تھے وہ ہر قیمت پر غزہ پہنچنا چاہتے تھے لیکن کہیں سے بھی کوئی راستہ نہیں بن رہا تھا اور ہم نے انہیں روکا کیونکہ غزہ میں داخل ہونے کے تمام راستے بند تھے اور کوئی راستہ نہیں تھا!!۔رہبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ ایران کے خلاف بھی امریکہ کی سرکردگی میں مغرب کی جانب سے شدید دھمکیاں اور دباؤ تھے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے لیکن ان دھمکیوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کے ارادوں میں نہ صرف یہ کہ تزلزل پیدا نہیں ہوا بلکہ انہوں نے اپنے ایٹمی وسائل میں ہر سال اضافہ ہی کیا۔ عوامی تحریکوں کے سلسلے میں امریکی موقف کی حقیقترہبر انقلاب اسلامی نے علاقے کے واقعات کے سلسلے میں امریکیوں کے موقف اور کارکردگی کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ ان واقعات پر پہلے تو امریکی حکام دم بخود اور خالی الذہن نظر آئے اسی لئے انہوں نے متضاد بیانات بھی دئے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ڈکٹیٹروں کی حمایت امریکیوں کی دیرینہ روش رہی ہے اور انہوں نے حسنی مبارک کا بھی آخری لمحے تک دفاع کیا لیکن جب انہیں اندازہ ہو گیا کہ مبارک کی حکومت اب جاری نہیں رہ سکتی تو اسے دودھ کی مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا۔ یہ چیز امریکہ کی کاسہ لیسی کرنے والے تمام حکام کے لئے درس عبرت ہونا چاہئے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مصر کے آمر کے سقوط کو امریکہ کی مشرق وسطی پالیسی کے لئے بہت بڑا دھچکا قرار دیا اور فرمایا کہ امریکہ جب بن علی اور حسنی مبارک کو بچانے کے سلسلے میں مایوس ہو گیا تو اس نے خباثت آمیز، موذیانہ اور سطحی حرکتیں شروع کر دیں تاکہ تیونس اور مصر کے آمرانہ نظاموں کے اسی ڈھانچے کو برقرار رکھ سکے لیکن عوام کا قیام مسلسل جاری رہنے کی وجہ سے یہ حربہ بھی ناکام ہو گیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اس حربے کی ناکامی کے بعد امریکہ نے موقع پرستی اور "نظیر تراشی" کے دو حربے اپنائے۔ موقع پرستی اور انقلابوں کو ہائی جیک کرنے کی کوشش بھی ناکامی سے دوچار ہوگی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے نظیر تراشی کی امریکی سازش کے سلسلے میں علاقے کے واقعات کے لئے، دینی جمہوریت والے ایران اور قوم کے ذریعے چلنے والے ایران میں ایک نظیر تراشنے کی امریکہ کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ پست اور خواہشات نفسانی کے اسیر کچھ عناصر کو استعمال کرکے ایران میں (علاقے کی تحریک کا) ایک مضحکہ خیز کارٹون سامنے لائیں لیکن انہیں ملت ایران کے ہاتھوں منہ کی کھانی پڑی اور ان کا یہ حربہ بھی شکست سے دوچار ہوا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے خطے کی عوامی تحریکوں کے سلسلے میں امریکہ کے موقف اور قوموں کی حمایت کے اس کے دعوؤں کو منافقانہ قرار دیا اور ملت ایران کی حمایت سے متعلق امریکی صدر کے تازہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ موجودہ امریکی صدر جو کچھ بول رہے ہیں خود اس کا مطلب سمجھتے بھی ہیں یا ناواقفیت اور بوکھلاہٹ کے شکار ہیں؟! وہ کہتے ہیں کہ (تہران کے) آزادی اسکوائر پر جمع ہونے والے عوام (قاہرہ کے) التحریر اسکوائر پر جمع ہونے والے مصری عوام کی مانند ہیں جبکہ تہران کے آزادی اسکوائر پر گیارہ فروری ( ایران کے اسلامی انقلاب کی سالگرہ) کے دن ایرانی عوام ہر سال جمع ہوتے ہیں اور امریکہ مردہ باد ان کا سب سے اصلی نعرہ ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ قوموں کی حمایت کا امریکیوں کا نعرہ ہمیشہ جھوٹا نعرہ رہا ہے، وہ نہ صرف یہ کہ علاقے کے عوام پر رحم نہیں کرتے بلکہ اپنی قوم کے لئے بھی ان کے اندر کوئی جذبہ ترحم نہیں ہے۔ چنانجہ موجودہ امریکی صدر ملکی معیشت کی انتہائی بحرانی صورت حال میں بھی امریکی عوام سے حاصل کی جانے والی ہزاروں ارب ڈالر کی رقم اسلحہ سازی اور تیل کی کمپنیوں کی جیب میں ڈال رہے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے علاقے کی عوامی تحریکوں کا جائزہ لیتے ہوئے لیبیا کے واقعات کی جانب بھی اشارہ کیا اور فرمایا کہ لیبیا کے مسئلے میں اسلامی جمہوریہ ایران حکومت کے ہاتھوں عوام کے قتل عام کی بھی مذمت کرتا ہے اور امریکہ سمیت مغربی ممالک کے حملوں کو بھی قابل مذمت جانتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے لیبیا کے عوام کی حمایت میں فوجی کارروائی شروع کرنے کے امریکہ اور مغربی ممالک کے دعوے کو بالکل ناقابل اعتبار قرار دیا اور فرمایا کہ اگر وہ واقعی لیبیا کے عوام کے خیر خواہ ہیں تو کیوں ایک مہینے تک بے گناہ عوام کے قتل عام پر مہر بلب بیٹھے رہے اور کوئی اقدام انجام نہیں دیا؟!آپ نے فرمایا کہ امریکہ سمیت مغربی ممالک لیبیا کے تیل اور اس ملک میں ایک ٹھکانے کے حصول کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں تاکہ تیونس اور مصر کی آئندہ کی حکومتوں پر بھی نظر رکھ سکیں۔ لیبیا کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی کارکرگیرہبر انقلاب اسلامی نے لیبیا کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی کارکردگی کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اس ادارے کے لئے کلنک کا ٹیکا قرار دیا اور فرمایا کہ اقوام متحدہ قوموں کی مدد کرنے کے بجائے امریکہ سمیت مغربی ممالک کا آلہ کار بن کر رہ گئی ہے۔بحرین کی عوامی تحریک کے سلسلے میں امتیازی رویہ رہبر انقلاب اسلامی انقلاب بحرین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بحرین کے عوامی انقلاب کی ماہیت اور مصر، تیونس، لیبیا اور یمن کے عوامی انقلابات میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ بحرین کےعوام بھی آزادانہ انتخابات میں اپنے حق رائے دہی کے استعمال کے خواہاں ہیں اور یہ کوئی بہت بڑا مطالبہ نہیں ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: بحرین کے مسئلے میں امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے شیعہ سنی مسئلہ اٹھایا جانا علاقے کے امور میں مداخلت کا بہانہ ہے؛ امریکی، بحرین میں شیعہ سنی مسئلہ چھیڑ کر بحرین کی عوامی تحریک کے سلسلے میں رائے عامہ کی حمایت اور مدد کا راستہ بند کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ امریکیوں کے اس جال میں بعض لوگ گرفتار ہو گئے ہیں جبکہ بحرین کے مسئلے میں شیعہ اور سنی کا مسئلہ اٹھانا امریکہ اور دشمنان اسلام کی بہت بڑی خدمت ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران 32 برس سے فلسطینی کاز کی حمایت کرتا آیا ہے اور خاص طور پر بائیس روزہ جنگ میں فلسطینیوں کی پر زور حمایت کی ہے، اسلامی جمہوریہ ایران نے فلسطینی قوم اور تیونس، مصر، لیبیا اور یمن کے انقلابات کی حمایت کی ہے جبکہ ان ممالک کے عوام شیعہ نہیں ہیں کیونکہ ان امور میں شیعہ سنی کی کوئی بات ہی نہیں ہے لہذا بحرین کے مسئلے میں بھی صرف اس وجہ سے کہ وہاں کے عوام شیعہ ہیں خاموشی ختیار نہیں کی جاسکتی ۔ آپ نے فرمایا: بحرین کے مسئلے میں سعودی عرب کی مداخلت سعودی عرب کی ہہت بڑی غلطی ہے اور یہ امریکیوں اور علاقے میں ان کے مہروں کی بے شرمی کی انتہا ہے کہ وہ بحرین میں سعودی عرب کے ٹینکوں کی موجودگی کو مداخلت ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں جبکہ وہ بحرین کے عوام کے قتل عام پر علمائے کرام اور خیر خواہ افراد کے احتجاج اور تشدد اور قتل عام کے خاتمے کے مطالبے کو ایران کی مداخلت قرار دے رہے ہیں!!!۔بحرین میں سعودی مداخلت بہت بڑی غلطی رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: بحرین میں سعودی عرب کی فوجی مداخلت ایک بہت بڑی غلطی ہے اور اس اقدام سے علاقے میں سعودی حکومت کے خلاف نفرت پھیلے گی اور یقینی طور پر سعودی عرب کو سنگین قسم کے نقصانات اٹھانا پڑیں گے۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا: خطے میں جو نئی لہر پیدا ہوئی ہے وہ امت اسلامیہ کی لہر اور اسلامی اہداف و مقاصد والی تحریک ہے جسے وعدہ الہی کے مطابق یقینی طور پر فتح حاصل ہوگی اور علاقے میں امریکہ کی ناکامیوں کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا۔ آپ نے فرمایا: علاقے کے واقعات کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف قوموں اور ان کے حقوق کا تحفظ اور آمروں اور سامراجی طاقتوں کی مخالفت کرنا ہے۔ گزشتہ سال کے دوران ایران کی پیشرفت کا جائزہرہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے گزشتہ ہجری شمسی سال سنہ تیرہ سو نواسی میں ملک کی مجموعی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا۔ آپ نے سائنس و ٹکنالوجی، سبسیڈی کی با مقصد اور منصفانہ تقسیم کے منصوبے پر عملدرآمد اور مغرب کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کا دانشمندی اور مضبوطی کے ساتھ مقابلہ کرنے کے سلسلے میں گزشتہ سال کے نعرے " بلند ہمتی اور دگنی محنت" پر عمل آوری کی مثال پیش کی۔ قابل ذکر ہے کہ ایران میں رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے ہر آنے والے سال کے لئے ایک نعرے کا تعین کیا جاتا ہے اور وہ سال اسی نعرے سے موسوم کیا جاتا ہے۔رہبر انقلاب اسلامی نے نئے سال سنہ تیرہ سو نوے ہجری شمسی (دو ہزار گيارہ-بارہ عیسوی) کے نعرے "معاشی جہاد" کے مختلف پہلوؤں اور ان کے تقاضوں اور لوازمات کا ذکر کیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں عید سعید نوروز کی ملت ایران اور یہ عید منانے والی دیگر قوموں کو مبارک باد پیش کی اور گزشتہ ہجری شمسی سال سنہ تیرہ سو نواسی (سنہ دو ہزار دس-گیارہ عیسوی) میں ملک کی مجموعی پیشرفت اور " بلند ہمتی او