اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، آیتاللہ رضا رمضانی نے کہا ہے کہ امام خمینی(ره) نے دین کو معاشرت اور حکمرانی کے متن میں واپس لانے کا تاریخی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امام صرف سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ فقیہ، عارف اور حکیم بھی تھے جن کی تعلیمات فرد، معاشرہ اور حکومت کے تمام شعبوں میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
یہ بات انہوں نے مجمع عالمی اہلبیت(ع) اور مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی(ره) کے درمیان تعاون کے معاہدے کی تقریب میں کہی، جس میں حجتالاسلام والمسلمین علی کمساری بھی موجود تھے۔
آیتاللہ رمضانی نے بتایا کہ موجودہ دنیا مادی اور سکولر نظریات کی غلبہ میں ہے، جہاں دین یا تو مکمل طور پر انکار شدہ ہے یا صرف ذاتی اور محدود طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں امام خمینی(ره) نے دین کو معاشرت، سیاست اور حکمرانی کے مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا اور یہ ثابت کیا کہ دین معاصر دنیا میں بھی تمدنساز اور رہنما ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے امام کی شخصیت کی جامعیت پر زور دیا اور کہا کہ امام کی بصیرت عقل و عرفان، فقه و حکمرانی کے امتزاج پر مبنی تھی۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ شریعت، طریقت، حقیقت اور سیاست ایک مربوط نظام ہیں اور ایک دوسرے سے الگ نہیں۔
آیتاللہ رمضانی نے کہا کہ امام خمینی(ره) نے ثابت کیا کہ حکمرانی دینی ناممکن نہیں بلکہ عصر جدید میں بھی دین معاشرت اور سیاست کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ آج امام کی تعلیمات کو عالمی سطح پر ہاروڈ، آکسفورڈ، سوربن اور کمبریج جیسے اداروں میں تسلیم کیا جا رہا ہے، جہاں یہ مغربی دانشوروں کے لیے نئے فکری جوابات فراہم کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر امام کی معرفت اور تعلیمات کو پہنچانے کے لیے ان کے افکار کو مختلف زبانوں میں ترجمہ اور اشاعت کیا جائے۔ معاہدے کے تحت مشترکہ علمی مواد، میڈیا پروڈکشن، آن لائن پلیٹ فارمز، سائنسی نشستیں اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے امام خمینی(ره) کے افکار کو مؤثر انداز میں فروغ دیا جائے گا۔
آیتاللہ رمضانی نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ ثقافتی اور تبلیغی اداروں کے درمیان تعاون کی ایک کامیاب مثال بنے گا اور امام خمینی(ره) کے جامع فکری ورثے کو عالمی سطح پر پہنچانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
آپ کا تبصرہ