اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،اردن کے پارلیمنٹ رکن معتز الہروط نے امریکی سفیر مائیک ہاکبی کے حالیہ متنازعہ بیان کی سخت مذمت کی ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل کو نیل سے فرات تک زمین پر مذہبی حق حاصل ہے۔
خبر رساں ادارے شهاب کے مطابق الہروط نے کہا کہ یہ بیان بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور خطے میں براہِ راست عدم استحکام کا سبب ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی قسم کی توسیع پسندانہ گفتگو، جس میں آزاد ممالک جیسے اردن کی زمینیں شامل ہوں، ناقابل قبول ہے اور ان کے قومی حاکمیت و تاریخ کے ساتھ کھلواڑ ہے۔
الہروط نے کہا کہ فلسطین کی مقبوضہ زمینیں ان کے باشندوں کی ہیں جو خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کے حامل ہیں۔ اسرائیل کے "بڑے اسرائیل" کے تصور کی بات خطرناک ہے کیونکہ یہ مقامی لوگوں کے حق خود ارادیت کی خلاف ورزی ہے اور خطے میں حقیقی امن قائم نہیں کر سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اعلانات محض لفظی غلطی نہیں بلکہ خطرناک توسیع پسندانہ ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں، جو خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام بڑھا سکتی ہے۔
الہروط نے تاکید کی کہ امن کو کسی ملک کی زمین پر قبضے یا عوام کے حقوق کی نفی کے تصور پر قائم نہیں کیا جا سکتا، اور نیل سے فرات تک پھیلے کسی بھی منصوبے کو مقامی عوام کبھی قبول نہیں کریں گے۔
مائیک ہاکبی نے جمعہ کے روز ایک انٹرویو میں تورات کے حوالے سے کہا تھا کہ یہ زمینیں نسل ابراہیم کو دی گئی ہیں، اور اگر اسرائیل تمام علاقوں پر قابض ہو جائے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔ موجودہ جغرافیہ کے مطابق یہ علاقے لبنان، شام، اردن اور سعودی عرب کے کچھ حصوں پر محیط ہیں۔
مائیک ہاکبی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تل ابیب میں امریکہ کا سفیر مقرر کیا ہے، اور وہ پہلے آرکنزاس کے گورنر رہ چکے ہیں۔
آپ کا تبصرہ