اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی

ماخذ : فاران
منگل

4 جون 2024

3:58:57 PM
1463243

ایرانی طاقت کے حوالے سے جو بائیڈن کا بڑا اعتراف

ایران کے حوالے سے بائیڈن کے حالیہ موقف کا سب سے بنیادی اور واضح پیغام ایران کی قابل ذکر طاقت کا اعتراف ہے۔ برسوں سے صہیونی یہ فرسودہ بیانیہ دنیا کو بیچ رہے ہیں کہ وہ مضبوط ترین فوجی اور انٹیلی جنس اداروں اور جدید ترین آلات سے مسلح ہیں۔ تاہم آپریشن وعدہ صادق کے حوالے سے بائیڈن کا حالیہ اعتراف ظاہر کرتا ہے کہ اس طرح کے دعوے کس قدر بے بنیاد ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، امریکی صدر جو بائیڈن نے حال ہی میں ایران کے حوالے سے ایک معنی خیز موقف اپنایا ہے۔ انہوں نے ایران کے وعدہ صادق آپریشن اور تہران کے بڑے پیمانے پر ڈرون-میزائل حملے (جو دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر صہیونی ریاست کے دہشت گردانہ حملے کے بدلے میں ہوا) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی امداد نہ ہوتی تو ایران کے اسرائیل پر حملہ کے تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔ بائیڈن نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی دفاعی نظام مقبوضہ علاقوں اور یقیناً خطے میں صہیونیوں کی مدد کے لیے موجود ہیں اور اس موقع پر مزید مدد بھی کی گئی۔ اس حوالے سے امریکی صدر کے اس مؤقف کے فوراً بعد بعض میڈیا ذرائع اور تجزیہ کاروں نے اس کی بڑے پیمانے پر کوریج کی اور اس سے سامنے آنے والے مختلف پیغامات کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی۔ امریکی صدر کے اس بیان میں کم از کم 4 اہم نکات اور پیغامات سامنے آتے ہیں۔

1۔ ایران کی طاقت کا واضح اعتراف

ایران کے حوالے سے بائیڈن کے حالیہ موقف کا سب سے بنیادی اور واضح پیغام ایران کی قابل ذکر طاقت کا اعتراف ہے۔ برسوں سے صہیونی یہ فرسودہ بیانیہ دنیا کو بیچ رہے ہیں کہ وہ مضبوط ترین فوجی اور انٹیلی جنس اداروں اور جدید ترین آلات سے مسلح ہیں۔ تاہم آپریشن وعدہ صادق کے حوالے سے بائیڈن کا حالیہ اعتراف ظاہر کرتا ہے کہ اس طرح کے دعوے کس قدر بے بنیاد ہیں۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ایران نے وعدہ صادق آپریشن کو خود ہی ڈیزائن اور اکیلا نفاذ نیز آزادانہ طور پر انجام دیا ہے، لیکن قدس پر قابض حکومت نے اپنے دفاع کے لیے امریکہ کے علاوہ 9 دیگر ممالک کا سہارا لیا، صہیونی ریاست کے تمام حامیوں کی امداد کے باوجود ایران نے صہیونی ٹھکانوں کو براہ راست میزائل کا نشانہ بنایا اور صہیونی ریاست کے اسٹریٹجک مراکز جیسے ناواتیم اور رامون کے فوجی اڈوں تک ایرانی میزائل پہنچے۔ ایک ایسا مسئلہ جو ظاہر کرتا ہے کہ ایران ظاہری نہیں حقیقی معنوں میں ایک اہم اور موثر طاقت ہے۔

2۔ امریکی اور صہیونی دفاعی نظام کے غیر موثر ہونے کا اعتراف

آپریشن وعدہ صادق کے دوران ایرانی میزائل بڑی حد تک صہیونی دفاعی نظام کو عبور کرکے اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔ ایک ایسا مسئلہ جس کا تذکرہ اس سے پہلے بعض اسرائیلی فوجی تجزیہ کاروں نے بھی کیا تھا اور امریکی صدر نے اپنے حالیہ مؤقف میں اس مسئلے کا واضح طور پر اعتراف کیا ہے۔ تاہم، ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے مقابلے میں امریکی دفاعی نظام کی تاثیر کے بارے میں جو بائیڈن کا بیانیہ بھی مکمل درست نہیں ہے، کیونکہ آپریشن کے نفاذ کے فوراً بعد صہیونی ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ القدس پر قابض حکومت نے حملہ کے وقت امریکہ کے دیئے گئے پیٹیٹریاٹ بھی استعمال کئے لیکن وہ ناکام رہے اور ایرانی میزائلوں کے خلاف ان سسٹمز کی تاثیر بہت محدود اور کمزور رہی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ جو صہیونی ریاست کی کمزوری کے ساتھ امریکی کمزوری کو بھی ثابت کرتا ہے۔ ایران کی قابل ذکر طاقت نے امریکی فوجی طاقت کے بارے میں کئی سوالات اٹھا دیئے ہیں۔

3۔ مغربی عبرانی میڈیا کی جھوٹی اور منحرف داستانیں

ایران کے وعدہ صادق آپریشن کے درمیان مغربی اور عبرانی میڈیا مسلسل یہ پروپیگنڈہ کرتا رہا کہ ایران کا آپریشن بہت زیادہ موثر اور دقیق نہیں ہے، لیکن امریکی صدر کا اعتراف جہاں مغربی میڈیا کے جھوٹ کا پول کھول رہا ہے، وہاں یہ آپریشن مغربی اور اسرائیلی فوجی صنعتوں کی کارکردگی کے لئے بھی مثال بن گیا ہے، جو بڑے بڑے دعوے کر رہے تھے۔ بائیڈن کے حالیہ واضح اعتراف سے ظاہر ہوتا ہے کہ بظاہر آزاد میڈیا تمام تر دعووں کے باوجود مغربی حکومتوں اور صہیونی لابیوں کا کتنا غلام اور مقلد ہے۔ اس اعتراف نے ثابت کر دیا کہ وہ حقائق اور سچائی کو آزادانہ طور پر پیش کرنے سے قاصر ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ وعدہ صادق آپریشن کے نفاذ کے کئی ہفتوں بعد، ریاستہائے متحدہ کے صدر نے اس آپریشن اور اس کے طول و عرض کے بارے میں اہم اعترافات کیے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس آپریشن کے حقائق کا موازنہ مغربی اور عبرانی میڈیا نے جس طرح کیا ہے، وہ زمینی حقائق سے کتنا مختلف ہے۔ مغربی اور اسرائیلی میڈیا نے جھوٹ بول کر جہاں صہیونی کمزوری کو چھپایا ہے، وہاں ایران کی طاقت کے تاثر کو بھی کمزور بنانے کی کوشش کی ہے۔ صہیونی میڈیا نے اس پروپیگنڈہ سے اپنی انٹیلی جنس کی ناکامی اور فوجی رسوائی کو بھی چھپانے کی کوشش کی ہے۔ وعدہ صادق کے بارے میں مغربی اور عبرانی میڈیا کی یہ کارکردگی مختلف بین الاقوامی واقعات کے بارے میں ان کے متعصبانہ اور غیر ایماندارانہ رویئے کی صرف ایک مثال ہے، دنیا کی رائے عامہ کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیئے۔

4۔ ایران کے بارے میں چھپی ہوئی سچائی کو تسلیم کرنا

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ امریکی صدر کا ایران کے وعدہ صادق آپریشن اور اس کا سامنا کرنے میں اسرائیل کی نااہلی کے حوالے سے حالیہ مؤقف اس اہم اور سٹریٹجک نکتے کو اٹھائے ہوئے ہے کہ مغرب اور قابض اسرائیلی دونوں ایران کی طاقت کے حوالے سے ابھی جہالت کے سیلاب سے دوچار ہیں۔ ایران اس وقت اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ان دونوں طاقتوں کو سرپرائیز دے سکتا ہے اور ان کی طاقت کے بارے میں ان کی جھوٹی اور جعلی تصویر کو دنیا کے سامنے برملا کرسکتا ہے۔ درحقیقت، بائیڈن کا حالیہ موقف اور وعدہ صادق آپریشن کے بارے میں رائے اس آپریشن کی سطح اور دائرہ کار کی وسعت کا اعتراف ہے، اسی طرح یہ موقف اس بات کی جانب بھی اشارہ ہے کہ ایران ضرورت کے وقت باتوں سے نہیں عمل سے جواب دے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: علی واحدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110