بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ شام پر حکومت کرنے والے باغیوں کے سربراہ ابومحمد الجولانی (احمد الشرع) کی حکومت کے اہلکاروں نے کل پیر کو 'الجولانی' کے خلاف 'سیکورٹی واقعے' کے بارے میں شائع ہونے والی اطلاعات کی تردید کی ہے۔
الجولانی کی وزارت داخلہ کے ترجمان نورالدین البابا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا: "کچھ پلیٹ فارمز نے بے بنیاد خبریں نشر کی ہیں اور شام کے [خود ساختہ] صدر اور سرکاری شخصیات کے خلاف ایک سیکورٹی واقعے کا دعویٰ کیا ہے۔ لیکن ہم سختی سے کہتے ہیں کہ یہ دعوے مکمل طور پر بے بنیاد اور جھوٹے ہیں۔"
یاد رہے کہ پچھلے ہفتے سے، سوشل میڈیا صارفین نے اطلاع دیتے رہے ہیں کہ 30 دسمبر کو شام کے صدارتی محل میں فائرنگ ہوئی اور تب سے الجولانی میڈیا میں نظر نہیں آئے ہیں۔
فرانسیسی خبررساں ادارے نے ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ "30 دسمبر کی رات صدارتی محل میں فائرنگ ہوئی۔" تاہم اس ذریعے نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
شامی ہیومین رائٹس واچ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمٰن نے بھی تصدیق کی ہے کہ "اس رات شام سات بجے کے قریب صدارتی محل کے اندر فائرنگ ہوئی جو تقریباً 12 منٹ تک جاری رہی۔"
انھوں نے کہا کہ فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق شدہ اطلاعات موجود ہیں۔
عبدالرحمٰن کے مطابق، یہ فائرنگ محل میں موجود افراد کے درمیان داخلی اختلافات کے نتیجے میں ہوئی۔
عبدالرحمٰن نے الجولانی کے اہلکاروں سے کہا: "صدارتی محل میں فائرنگ ہوئی۔ کس نے فائرنگ کی؟ کون زخمی ہؤا؟ جھوٹ مت بولو اور مت کہو کہ کچھ نہیں ہؤا۔ یقیناً کچھ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔"
الجولانی کی ذرائع ابلاغ میں آخری موجودگی 29 دسمبر کو ریکارڈ ہوئی ہے جب انھوں نے شام کے نئے کرنسی نوٹ کے اجرا کے لئے مرکزی بینک کی تقریب میں شرکت کی تھی۔
سیرین حقوق انسانی واچ کہلوانے والے ادارے کے ڈائریکٹر نے کرد عناصر کے ساتھ مذاکرات کے دوران الجولانی کی عدم موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زور دیا: "اس عدم موجودگی نے بہت سے سوالات کھڑے کئے ہیں۔"
رامی عبدالرحمٰن نے اختتام پر کہا: "اس میں کیا حرج ہے اگر کہا جائے کہ کون مرا؛ کیا ان (الجولانی) کا ایک نائب مارا گیا یا کوئی اردنی سیکورٹی فورس کا فرد زخمی ہؤا! بہر حال یہ یقینی امر ہے کہ اس رات صدارتی محل میں فائرنگ ہوئی ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ