اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ادارے نے عالمی ذرائع کے حوالےسے خبر دی ہے کہ اسرائیلی شہر راحت کے قریب نیگوَو کے ریگستان میں ایک عمارت کی بنیادیں کھودی جارہی تھیں کہ اس کے نیچے سے قدیم عمارت کے آثار نمودار ہوئے۔
مکمل کھدائی کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ایک مسجد ہے جس میں منبر کا علاقہ واضح طور پر قبلہ رخ ہے اور اسرائیلی محکمہ آثار کے مطابق یہ مسجد 1200 سال قبل تعمیر کی گئی تھی۔ اس کے بعد مسلمانوں کی بڑی تعداد نے یہاں آکر نماز بھی ادا کی ہے۔
اس موقع پر کھدائی کے نگراں جون سلگماں اور شاہر زور نے بتایا کہ یہ پوری دنیا میں ایک نایاب ترین دریافت ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس مسجد کو مقامی افراد نے ہی تعمیر کیا ہے جو کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ مسجد پر کوئی چھت نہیں بنائی گئی تھی اور منبر جنوب کی سمت یعنی قبلہ رخ ہے۔
/129
20 جولائی 2019 - 09:41
News ID: 962905
اسرائیل میں ایک عمارت کی بنیادیں کھودنے پر قدیم ترین مسجد کے آثار دریافت ہوئے ہیں، ابتدائی اندازے کے مطابق یہ انتہائی سادہ مسجد کم از کم 1200 سال قدیم ہے۔