17 اپریل 2019 - 11:01
نوجوانوں کو ان کا دن مبارک ہو؛ حضرت علی اکبر(ع) نوجوانوں کیلئے رول ماڈل

اسلامی جمہوریہ ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کے بعد حضرت امام حسین (ع) کے فرزند حضرت علی اکبر(ع) کی ولادت باسعادت کو یوم نوجوان کا نام دیا گیا ہے۔ اس روز نوجوانوں کے لئے مختلف قسم کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں اور نوجوانوں اور جوانوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تاکہ اس دور کے نوجوان حضرت علی اکبر(ع) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین مبین اسلام اور معاشرے کے محروم اورغریب طبقے کی خدمت کر سکیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا: حضرت علی اکبر (ع) بن ابی عبداللہ الحسین (ع) 11 شعبان کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ حضرت امام حسین بن علی بن ابی طالب (ع) کے بڑے فرزند تھے اور آپ کی والدہ ماجدہ کا نام لیلٰی بنت مرّہ بن عروہ بن مسعود ثقفی ہےـ

11شعبان المعظم وہ تاریخ ہے جب حضرت امام حسین علیہ السلام کی آغوش مبارک میں علی اکبر جیسا فرزند آیا، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اپنے بابا کے مقصد پر یوں قربان کر دی کہ آج کے جوانوں کے لئے نمونہ بن گئے اور اسی بنیاد پر آج کی تاریخ کو اسلامی دنیا میں علی اکبر علیہ السلام سے منسوب کرتے ہوئے یوم جوان کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یوں تو ہر دن ہی جوانوں کا ہے کہ ان کے وجود میں حرکت ہوتی ہے، شادابی و فرحت سے انکا وجود سرشار ہوتا ہے اور ہر آنے والے دن کو وہ اپنی توانائیوں کی بنیاد پر یادگار بنا دیتے ہیں لیکن آج کی تاریخ اس لئے اہم ہے کہ انہی سے مخصوص ہے، روز جوان جہاں جوانوں کی اہمیت کو بیان کرتا ہے، وہیں حضرت علی اکبر جیسے جوان کی یاد بھی دلاتا ہے جنہوں نے اپنی جوانی دین پر لٹا دی اور ہر شریف النفس جوان کے دل کی دھڑکن بن گئے اور یہی وجہ ہے کہ آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ شام میں حق و باطل کے درمیان سجے معرکہ میں جوانوں کا جوش و ولولہ کیسا ہے جنکے عزم و ہمت کو ہمارا سلام۔

حضرت علی اکبر علیہ السلام کی راہ پر چلتے ہوئے اپنی جوانی کو راہ اسلام پر لٹا دینے والوں کو سلام، جنہوں نے دنیا کی زرق وبرق کو ترک کر کے دفاع حرم حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا، یہی وجہ ہے کہ شہداء حرم بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی ایک بڑی تعداد ہمیں ان جوانوں کی نظر آتی ہے جن کی عمریں حضرت علی اکبر علیہ السلام کی عمر سے نزدیک ہیں۔ یقینا کل اگر حضرت علی اکبر علیہ السلام نے حقانیت کی راہ پر مر مٹ کر امر ہو جانے کا سبق نہ دیا ہوتا تو آج یہ روح پرور سماں نہ ہوتا، جو ہم شام، عراق،یمن،بحرین اور اسی طرح دنیا کے دیگر ممالک میں دیکھ رہے ہیں۔

ہمارا کروڑوں سلام و درود حسین ابن علی علیہ السلام کے اس جوان بیٹے ‎حضرت علی اکبر (ع) پر جنہوں نے "اولسنا علی الحق" کہہ کر ہمارے جوانوں کو سمجھا دیا کہ تم اگر حق پر ہو تو پرواہ نہیں ہونی چاہیئے کہ تم موت پر جا پڑو یا موت تم پر آ جائے۔ آج جہاں ایک طرف جوانوں سے منسوب اس دن میں ذکر و یاد علی اکبر سزاوار ہے، وہیں بہت مناسب ہے کہ ہم اپنے سماج اور معاشرہ میں غور کریں کہ جوانوں کے مسائل کیا ہیں، انہیں کن مسائل و مشکلات کا سامنا ہے اور ان کا راہ حل کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"جب حق پر قائم ہیں تو ہمیں موت کا کوئی ڈر نہیں ہے ۔ "

حضرت علی اکبر علیہ السلام ابی مخنف، وقعۃ الطف،صفحہ 276

حضرت علی اکبر علیہ السلام

(کلام:علامہ السید ذیشان حیدر جوادی کلیم الہ آبادی )

آل نبی میں جتنے صغیر و کبیر ہیں

سب ورثہ دار زور شہ قلعہ گیر ہیں

بے مثل و بے جواب ہیں اور بے نظیر ہیں

اپنی جگہ پہ سب ہی جناب امیر ہیں

بے تیغ جنگ جیتے تو اصغر کہیں اسے

اس سے بھی ہو بزرگ تو اکبر کہیں‌اسے​

.......

اتنا خدا نے بہتر و برتر بنا دیا

جان علی شبیہ پیمبر (ص) بنا دیا

اب اس سے بڑھ کے ہوگا بھلا کونسا شرف

پہلے علی بنایا پھر اکبر بنا دیا

.......

عکس جمال مرسل اعظم (ص) کہیں اسے

یا افتخار عالم و آدم کہیں‌ اسے

ہمشکل مصطفی (ص) کی ثنا کس طرح کہیں

اکبر کہیں امام تو ہم کیا کہیں‌ اُسے

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا اپنے تمام ناظرین ، سامعین اور کرم فرماوں خاص طور سے سبھی جوانوں کی خدمت میں تبریک و تہنیت پیش کرتا ہے۔

۔۔۔۔۔

/169