30 مارچ 2019 - 14:00
’واپسی مارچ‘ عظیم الشان ریلیوں کا ایک سال مکمل

اس تحریک کے ذریعے فلسطینی قوم بالخصوص غزہ کے عوام کی طرف سے دشمن کو یہ پیغام دیا گیا کہ فلسطینی محاصرے کے باوجود ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور نہ ہی جھکیں گے۔ فلسطین میں یہ تحریک یوم الارض کی مناسبت سے شروع کی گئی اور فلسطینیوں نے اپنے خون سے اس تحریک کی آبیاری کی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں ۳۰ مارچ ۲۰۱۸ء کو ‘یوم الارض’ کے موقع پر فلسطینی عوام نے حق واپسی کے حصول اور غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے ایک پر امن احتجاجی تحریک کا آغاز کیا۔ یہ تحریک فلسطینیوں کے سلب شدہ حقوق کی بحالی کے لیے فلسطین میں اٹھنے والی تحریکوں میں سے ایک اہم تحریک ہے۔

اس تحریک کے ذریعے فلسطینی قوم بالخصوص غزہ کے عوام کی طرف سے دشمن کو یہ پیغام دیا گیا کہ فلسطینی محاصرے کے باوجود ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور نہ ہی جھکیں گے۔ فلسطین میں یہ تحریک یوم الارض کی مناسبت سے شروع کی گئی اور فلسطینیوں نے اپنے خون سے اس تحریک کی آبیاری کی۔

غزہ میں جاری حق واپسی تحریک کو ایک سال ہوچکا ہے اور فلسطینی بہادری اور قربانی کی لازوال مثالیں قائم کر رہے ہیں۔ فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج کی طرف سے گولیوں، آنسوگیس کی شیلنگ کے ساتھ ساتھ توپ کے گولوں اور تباہی پھیلانے والے میزائلوں کا بھی سامنا ہے مگر فلسطینیوں‌ نے دشمن کے ساتھ جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔

اس تحریک کے دو بڑے نعرے اور مطالبے ہیں۔ پہلا مطالبہ غزہ کی پٹی پرمسلط کی گئی صہیونی ریاست کی کھا جانے والی ناکہ بندی کا خاتمہ ہے۔ دوسرا مطالبہ فلسطینی پناہ گزینوں کا اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانا ہے۔ فلسطینیوں‌ نے یہ پیغام دیا ہے کہ صہیونی دشمن کے لیے فلسطینی سرزمین میں کوئی گنجائش نہیں۔ فلسطینیوں کی پر امن تحریک کے باوجود صہیونی فوج نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔

فلسطینی وزارت صحت کی رپورٹ کے مطابق حق واپسی تحریک کے ایک سال کے دوران ۲۶۶ فلسطینیوں کو اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔ جب کہ ۳۰ ہزار زخمی ہوئے ہیں۔ ۱۱ شہداء کے جسد خاکی ابھی تک صہیونی دشمن نے اپنے قبضے میں لے رکھے ہیں۔ شہداء میں ۵۰ بچے اور ۶ خواتین بھی شامل ہیں۔

حق واپسی تحریک کے دوران ۶ اپریل ۲۰۱۸ء‌ کو صہیونی فوج نے غزہ میں گولیاں مار کر صحافی یاسر مرتجی کو شہید کر دیا۔ ۲۵ اپریل کو ایک اور صحافی احمد حسین شرق کو شہید کر دیا۔

گذشتہ برس کی تحریک حق واپسی کے دوران اسرائیلی فوج نے صحافیوں کو معاف کیا نہ طبی عملے کو بخشا۔ چنانچہ ایک نوجوان دوشیزہ رزان النجار کو یکم جون کو اس کے خیمے میں نشانہ بنا کر گولیاں ماریں اور انہیں شہید کر دیا۔ موسیٰ ابو حسنین  اور عبداللہ القططی کو بھی اسی میدان میں خدمات انجام دیتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔

اہم واقعات

تیس مارچ ۲۰۱۸ء کو جب فلسطینیوں‌ نے حق واپسی تحریک شروع کی تو اس روز ۱۵ فلسطینیوں کو شہید کیا گیا۔

یکم اپریل کو فلسطینیوں نے مزاحمتی اور احتجاجی تحریک کو ایک نئی شکل دی اور اسرائیلی آبادیوں پر آتش گیر مواد پھینکنا شروع کر دیا۔

اپریل کو غزہ کی پٹی میں فلسطینی مظاہرین نے سرحد پر پانچ مقامات پر خیمے لگائے اور ہفتہ وار احتجاج شروع کر دیا۔

چودہ مئی ۲۰۱۸ء کو اسرائیلی فوج نے غزہ میں‌ حق واپسی کے لیے احتجاج کرنے والے ۶۰ فلسطینیوں کو خون میں نہلا دیا۔

۲۹ مئی کو فلسطینیوں نے غزہ کی پٹی کی بحری ناکہ بندی توڑنے کا آغاز ہوا۔

۱۰ جون کو اسرائیلی فوج نے غزہ میں بحری ناکہ بندی توڑنے کی دوسری کوشش ناکام بنائی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲