15 جنوری 2019 - 10:21
یمن پر جنگ مسلط کرنے والے چین کی نیند کیونکر سوتے ہیں؟

اس انٹرویو میں سابق قطری وزیر ا‏عظم نے قطر، شام، یمن اور ایران، اور علاقائی بحرانوں نیز سعودی عرب کے ناراض اور مشہور صحافی جمال خاشقجی (جمال خشوگی) کے قتل کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ قطر کے سابق وزیر اعظم حمد بن جاسم آل ثانی نے یمن کی جنگ کو "المناک غلطی" قرار دیا اور کہا: نہ جانے جن لوگوں نے یمن کے خلاف جنگ کا فیصلہ کیا ہے وہ راتوں کو چین کی نیند کیونکر سوتے ہیں؟
قطر کے سابق وزیر اعظم حمد بن جاسم آل ثانی نے "روسیا الیوم" (RT) کو ایک انٹرویو دیا جس کا متن بروز ہفتہ [مورخہ 12 جنوری 2019ع‍ کو] شائع ہوا۔
اس انٹرویو میں سابق قطری وزیر ا‏عظم نے قطر، شام، یمن اور ایران، اور علاقائی بحرانوں نیز سعودی عرب کے ناراض اور مشہور صحافی جمال خاشقجی (جمال خشوگی) کے قتل کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دیا ہے۔
انھوں نے خلیج فارس تعاون کونسل کے اندرونی بحران اور قطر کے ساتھ چار عرب ممالک کے سفارتی تعلقات کے خاتمے کے بارے میں کہا: یہ بحران بدستور جاری ہے، لیکن نہ اس میں شدت آرہی ہے اور نہ ہی حل ہورہا ہے۔
بن جاسم نے کونسل کے بحران کے سلسلے میں ثالثوں کی کوششوں کی ناکامی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: یہ ثالثیاں امریکی موقف کے دوہرے پن اور بعض ممالک کی ہٹ دھرمیوں کی وجہ سے ناکام ہوچکی ہیں۔
انھوں نے کہا: چار ملکوں کی طرف سے محاصرے کے باوجود قطر کو کسی خاص مسئلے کا سامنا نہیں ہے اور قطر مختلف بحرانوں کو پیچھے چھوڑ رہا ہے؛ وہ ابھی تک دہشت گردی کی حمایت کے الزام کے سلسلے میں قطر کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خلیج فارس تعاون کونسل کا پیکر ٹوٹ چکا ہے، بداعتمادی نے اعتماد کی جگہ لے لی ہے چنانچہ اعتماد کی بحالی کے لئے طویل عرصہ درکار ہے۔ موجودہ بحران بےبنیاد ہے اور جن لوگوں نے اس کا آغاز کیا ہے وہ سیاست کو نہین سمجھتے۔
بن جاسم نے کہا: تعاون کونسل کے فیصلوں میں رکن ممالک کے شہریوں کے مفادات کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے؛ اور بعض ریاستوں کے پیدا کردہ بحران کی وجہ سے رکن ممالک اور ان کے باشندوں کی رہی سہی امیدیں بھی برباد ہوگئیں۔
سابق قطری وزیر اعظم نے کہا: سعودی ولیعہد کو اعلی سطحی مشیروں کی ضرورت ہے تاکہ وہ انہیں ان کے فیصلوں کی اہمیت اور اثرات سے آگاہ کریں!
غیریقینی صورت حال اور بلیک میلنگ
قطر کے سابق وزیر اعظم نے ماہ اکتوبر سنہ 2018ع‍ میں، استنبول میں واقع سعودی قونصلیٹ جنرل میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس کیس کو فراموش کیا جائے گیا کیونکہ اس کی پیروی کے لئے ضمیر اور عدل و انصاف کی ضرورت ہے!
انھوں نے کہا: یہ ایک نہایت ہولناک کیس ہے جس کے لئے قوی فیصلے کی ضرورت ہے تا کہ واضح ہوجائے کہ اس قتل کا اصلی کردار کونسا ہے اور کس نے اس نفرت انگیز اقدام کا حکم دیا تھا؟
انھوں نے کہا: خاشقجی قتل کیس میں سعودی حکام نے مختلف النوع اور متضاد بیانات دیئے، کبھی اس کا انکار کیا اور کبھی اس کو سرکش افراد کا اقدام قرار دیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی حکمران مکمل طور پر حیرت اور غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں۔ انھوں نے کہا: خاشقجی قتل کیس میں عدل و انصاف کا انتظار کرنا چاہئے، لیکن اس سلسلے میں سعودیوں کو بلیک میل کیا جارہا ہے [اور حقائق فاش نہ کرنے کا وعدہ دے کر کچھ وصولیاں کی جارہی ہیں، جن کی وجہ سے اس سلسلے میں خیر کی کچھ زیادہ توقع نہیں ہے]۔
جنگ یمن
بن جاسم نے جنگ یمن (1) کے بارے میں کہا: یہ جنگ سنہ 2015ع‍ کے آغاز سے آج تک جاری ہے، اور اس کا جلد از جلد خاتمہ ہونا چاہئے۔
انھوں نے یمن پر ہونے والی سعودی ـ اماراتی جارحیت کو "المناک غلطی" قرار دیا اور کہا: میں حیران ہوں کہ جن لوگوں نے اس جنگ کا آغاز کیا وہ راتوں کو چین کی نیند کیونکر سوتے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ واضح رہے کہ قطر بھی ابتداء میں سعودی اتحاد میں شامل تھا اور اس کے فوجی دستے جارحیت میں شامل تھے اور اس کے کچھ فوجی بھی یمن میں مارے گئے۔

http://fna.ir/bqui8t

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰