اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق برسلز میں یورپی یونین کے ہیڈکوارٹر میں ہونے والے ایران یورپ اجلاس کی صدارت ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور یورپی یونین کے امور خارجہ کی ڈپٹی انچارج ہیلگا اشمد نے مشترکہ طور پر کی۔
اس اجلاس میں ایران کی پارلیمینٹ مجلس شورائے اسلامی کے وفد کے ارکان، وزارت خارجہ کے بعض اعلی افسران اور یورپی یونین کے مختلف کمیشنوں کے نمائندے شریک ہوئے۔
ایران اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے اعلی سطحی مذاکرات کے چوتھے دور میں زراعت، تعلیم، تحقیقات، تجارت، توانائی، موسمیاتی تبدیلیوں، ٹرانسپورٹیشن، بینکاری لین دین، پناہ گزینوں کے مسائل، منشیات، قدرتی آفات، انسانی حقوق اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے معاملات میں دو طرفہ تعاون کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں مذکورہ شعبوں میں تعاون کے حوالے سے ماضی کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل اور منصوبے پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر اتفاق کیا گیا۔
اس موقع پر برسلز میں ایران اور یورپی یونین کے درمیان پرامن ایٹمی تعاون کے بارے میں تیسرا اعلی سطحی سیمینار بھی منعقد کیا گیا جس کی صدارت ایران کے محکمہ ایٹمی توانائی کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی اور یورپی یونین کے انرجی کمشنر آریاس کینیٹ نے مشترکہ طور پر کی۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے اس سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامع ایٹمی معاہدہ ایک اہم سفارتی کامیابی ہے اور ایران اس معاہدے کی مکمل پابندی کر رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس معاہدے کے وہ فوائد جو ایران کو حاصل ہونا چاہیے تھے، تاحال حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔
سید عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ یہ صورت حال زیادہ خوش آئند نہیں ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اگر صورت حال اسی طرح جاری رہی تو ایٹمی معاہدہ مشکل صورت حال کا شکار ہو سکتا ہے۔
.......
/169