اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے دشمن کی شدید نگرانی میں امام عصر(عج) کی غیبت کے سلسلے میں تین خصوصی کارنامے سرانجام دیئے: عوام کو غیبت کے زمانے میں اپنے امور کے انتظام کے لئے تیار کرنا؛ غیبت کے زمانے میں امام معصوم کی موجودگی کا اثبات اور شیعیان اہل بیت کو امام مہدی عَجَّلَ اللہُ تَعَالَی فَرَجَہُ الشریف کا بطور امام دوازدہم، تعارف کرانا۔
آج ایک لحاظ سے محرم اور صفر کا آخری دن اور گیارہویں امام معصوم حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کا یوم شہادت اور آج رات امام زمانہ عَجَّلَ اللہُ تَعَالَی فَرَجَہُ الشَّریف کے آغاز امامت کی شب ہے اور ہم دن کو گیارہویں امام کی شہادت کا سوگ اور رات کو امام عصر عَجَّلَ اللہُ تَعَالَی فَرَجَہُ الشَّریف کی امامت کے آغاز کے سلسلے میں جشن مناتے ہیں۔ اسی مناسبت سے جناب غفاری فر کے خطاب کے اہم نکات قارئین و صارفین کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں:
*امام عسکری علیہ السلام حضرت حجت عَجَّلَ اللہُ تَعَالَی فَرَجَہُ الشَّریف کی غیبت اور ظہور کے لئے ماحول سازی
امام حسن عسکری علیہ السلام کا اہم ترین کارنامہ یہ تھا کہ آپ نے امام عصر حجت ابن الحسن العسکری عَجَّلَ اللہُ تَعَالَی فَرَجَہُ الشَّریف کی غیبت اور ظہور کے لئے ماحول فراہم کیا۔
گوکہ یہ مسئلہ امام حسن عسکری علیہ السلام تک محدود نہیں تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے زمانے سے امام عصر عَجَّلَ اللہُ تَعَالَی فَرَجَہُ الشَّریف کی غیبت اور ظہور کے لئے ماحول سازی کا عمل جاری رہا تھا لیکن چونکہ امام عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام معصوم کو غائب ہونا تھا لہذا آپ نے اس حوالے سے زیادہ وسیع اور مؤثر اور اہم کردار ادا کیا۔
معصومین علیہم السلام کے دور میں ہم جس قدر کے عصر غیبت سے قریب سے قریب تر ہوتے ہیں، یعنی امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کے زمانے کے بعد، ائمہ علیہم السلام نے اس سلسلے میں زیادہ کوششیں کی ہیں۔
* اکثر شیعہ اور سنی مآخذ کے مطابق ائمہ کی تعداد 12 ہے
امام عسکری علیہ السلام کے کردار پر روشنی ڈالنے سے پہلے یہ نکتہ واضح کرنا ضروری ہے کہ جب آپ شیعہ اور سنی مآخذِ حدیث کے متن کا مطالعہ کرتے ہیں، مشاہدہ کرتے ہیں کہ اہل تشیُّع اور اہل سنت کے پہلے درجے کے اکثر مآخذ حدیث میں جب ائمہ ہُدی علیہم السلام کے اسماء گرامی کا تذکرہ آتا ہے، تو تمام بارے ائمہ علیہم السلام کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ تاریخی ذہنیت اور فکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے زمانے سے معرض وجود میں آئی ہے اور جب یہ سلسلہ امام حسن عسکری علیہ السلام تک پہنچتا ہے تو ہمیں 12 حدیثیں ملتی ہیں جو شیعہ اور سنی علماء نے اپنے اپنے منابع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل کی ہیں اور ان بارہ حدیثوں میں امام حسن عسکری علیہ السلام اور آپ کے فرزند امام مہدی عَجَّلَ اللہُ تَعَالَی فَرَجَہُ الشَّریف سمیت 12 ائمہ طاہرین علیہم السلام کے اسمائے گرامی مندرج ہیں۔
اس نکتے کی وضاحت یہ سمجھنے کے لئے تھی کہ اگر امام حسن عسکری علیہ السلام امام عصر عَجَّلَ اللہُ تَعَالَی فَرَجَہُ الشَّریف کی غیبت اور ظہور کے لئے ماحول سازی کرتے ہیں تو امام کا یہ عمل درحقیقت ایک تاریخی، اسلامی اور شیعی فریضہ ہے یعنی یہ کہ یہ فریضہ آپ کو اپنے جد امجد حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سے ورثے میں ملا ہے۔
اس سلسلے میں روایات اور احادیث بکثرت نقل ہوئی ہیں۔ فارسی، عربی اور اردو میں بہت ساری کتابیں اس سلسلے میں دستیاب ہیں اور فارسی میں "خورشید سامرا" نامی کتاب متن اور سند کے لحاظ سے بہت معتبر کتاب ہے جو معاصر محقق جناب محمد جواد طبرسی کی کاوش اور اہل بیت علیہم السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام اور امام عصر عَجَّلَ اللہُ تَعَالَی فَرَجَہُ الشَّریف کے سلسلے میں ان کا تخصصی درس ہے۔ اس معتبر کتاب میں ہم دیکھتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس اور عائشہ بنت ابی بکر سے 12 حدیثیں نقل ہوئی ہیں اور اس موضوع پر میری تاکید کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ اہل سنت کے اکابرین نے بھی ان روایات میں 12 اماموں کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس سلسلے میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ سے حدیثیں نقل کی ہیں۔
* امام مہدی عَجَّلَ اللہُ تَعَالَی فَرَجَہُ الشَّریف کی ولایت، غیبت اور ظہور کی بحث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے زمانے سے شروع ہوئی
چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت قائم آل محمد عَجَّلَ اللہُ تَعَالَی فَرَجَہُ الشَّریف کی ولایت، غیبت اور ظہور کی بحث حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے زمانے سے شروع ہوئی ہے اور 11 ائمہ سلف نے بھی ہر موقع اور مناسبت سے اس موضوع کا تذکرہ کیا ہے لیکن جس قدر کہ ہم ظہور کے لحاظ سلسلہ امامت کی انتہا کے قریب آتے ہیں، بالخصوص امام رضا علیہ السلام کے زمانے کے بعد، یہ موضوع بہت سنجیدگی سے زیر بحث لایا جاتا ہے اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانے میں عروج کو پہنچتا ہے۔
ایران کے شہر، شہر رے میں حضرت عبدالعظیم حسنی سلام اللہ علیہ کا حرم ایک زندہ سند اور دستاویز ہے جن کا حرم ایران سمیت مختلف ممالک اور بالخصوص تہران اور شہر رے کے مؤمنین کی زیارتگاہ اور دعا و مناجات کا مرکز ہے۔ حضرت عبدالعظیم علیہ السلام امام علی النقی الہادی علیہ السلام سے ملاقات کرتے ہیں، آپ سے یہ حدیث اخذ کرکے ایران لاتے ہیں۔
* امام عسکری علیہ السلام کا پہلا کام لوگوں کو غیبت کے زمانے میں معاشرے کے انتظام کے لئے تیار کرنا تھا
امام حسن عسکری علیہ السلام کو اس امر کے آخری ذمہ دار کے طور پر چند اہم کام انجام دینا تھے: اول یہ کہ عوام کو شیعہ معاشرے کے انتظام و انصرام کے لئے تیار کرتے، وہ بھی ایسے حال میں کہ امام معصوم تک رسائی مزید بہت آسانی سے ممکن نہیں تھی؛ یہ مسئلہ سب سے زیادہ اہم ہے۔
اس بات کے ادراک کے لئے ایک فقہی بحث کی طرف اشارہ کرنا چاہیں گے: ہماری فقہ میں "قضاء" اور "شہادت" کے موضوعات میں اس موضوع پر بحث کرتے ہیں؛ اور وہ یہ کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اور ائمۂ معصومین علیہم السلام کے زمانے میں، قضاء [نظام عدل] میں علم غیب سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا؛ اور ہمیں حکم ہے کہ دو شہادتیں سامنے آئیں یا قاضی کے ذاتی علم ـ نہ کہ اس کی غیبی معلومات ـ سے استفادہ کریں؛ لیکن صرف امام عصر عَجَّلَ اللہُ تَعَالَی فَرَجَہُ الشَّریف کے زمانے میں آپ کو اپنے علم غیب کی بنا پر مجرمین کو سزائیں دینے کی اجازت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اور جواب یہ ہے کہ کیونکہ آخری امام معصوم [امام حسن عسکری علیہ السلام] کے حضور کے بعد بہت طویل عرصہ گذر چکا ہے اور اس عرصے میں ائمہ معصومین حاضر نہیں تھے۔ چنانچہ بنی نوع انسان کو عصر غیبت میں اپنی ہدایت کے لئے یہ فقہی قاعدہ قرار دیا گیا کہ فیصلہ اور حکم سنانے کے لئے دو گواہوں کی شہادت کافی ہے۔ یہاں سے غیبت کے لئے ماحول سازی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ اور اس مہم کو ـ کہ غیبت کے زمانے میں بنی نوع انسان کے امور و معاملات کا انتظام و انصرام بہت ہی پیچیدہ موضوع ہے ـ رسول اللہ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سے لے کر امام حسن عسکری علیہ السلام تک بہت سنجیدہ لیا جاتا ہے۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کے سامنے سب سے اہم نکتہ یہ تھا کہ لوگ عصر غیبت میں تحمل، بردباری، صبر، پرامن بقائے باہمی، اور اسی اثناء میں دینداری کی مشق کریں اور ان امور میں تجربہ حاصل کریں اور اپنے آپ کو [ظہور کے لحاظ سے] اپنے امام و سرپرست کی غیر موجودگی کے زمانے میں زندگی بسر کرنے کے قابل بنائیں اور انتظار ظہور کے سلسلے میں ثابت قدم رہیں۔ یہی غیبت کے لئے تیاری کا اصول ہے۔ امام عسکری علیہ السلام اپنے نائبین اور اصحاب خاص نیز خطوط و مکاتیب کے ذریعے شیعیان اہل بیت کے ساتھ رابطے کرنے کی کوشش کرتے تھے تا کہ لوگوں کو عصر غیبت اور امام عصر تک عدم رسائی کے زمانے کے لئے آمادہ کریں۔
* امام حسن عسکری کا دوسرا کام عصر غیبت میں امام کی موجودگی بیان کرنا تھا
دوسری بات یہ کہ امام حسکن عسکری علیہ السلام کی ذمہ داری یہ تھی کہ غیبت کے زمانے میں بھی امام موجود ہیں گوکہ وہ آنکھوں سے اوجھل ہونگے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے اس موضوع پر بہت زیادہ کام کیا حالانکہ آپ عباسی حکومت کے ہاں نظربندی کے ایام گذار رہے تھے اور خاص قسم کے بحران سے گذر رہے تھے اور آپ کے لقب سے بھی معلوم ہے کہ آپ ایک فوجی احاطے کے اندر مقیم تھے۔
بعض لوگ لفظ "عسکر" کی صحیح تشریح نہیں کرتے ہیں کیونکہ آپ کی قیامگاہ محض چھاؤنی ہی نہيں تھی بلکہ جس علاقے میں آپ مقیم تھے اس علاقے کا نام عسکر تھا؛ آج کے فوجی قصبے (ٹاؤن یا فوجی ہاؤسنگ سوسائٹی) جیسا علاقہ تھا۔ عسکر بھی ایسا ہی ایک مقام تھا۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کچھ ایسے احاطے میں محدود تھے کیونکہ ایک فوجی مسکن میں دیدبان، چوکیدار، نگہبان اور جاسوس ہوتے ہیں اور مختلف قسم کے سیکورٹی اہلکار ہوتے ہیں۔ عباسی سلطنت بنی ہاشم میں سے، ین صدیوں کے پس منظر کے مالک سنجیدہ مخالف اور رقیب اور عصمت و طہارت اور علم و دانش کے وارث کو اپنے قابو میں لانا چاہتی تھی؛ چنانچہ عوام کے ساتھ بہت معمولی اور مختصر سا رابطہ بھی ظالم عباسی حکمران کے لئے نقصان دہ سمجھا جاتا تھا؛ لہذا عباسی حکمران آپ کی کڑی نگرانی کررہا تھا تا کہ آپ مکمل طور پر زیر نگرانی ہوں، اور لوگ آپ کو کم دیکھیں، اور اگر دیکھ بھی لیں کم بولیں اور اگر بولیں تو امامت کے مسائل زیر بحث نہ آئیں۔
فرض کریں کہ نظربندی اور کڑی نگرانی کی اس بحرانی صورت حال میں، امام حسن عسکری علیہ السلام پہلے اور دوسرے مقاصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں کہ "آپ کے ایک امام ہیں اور آپ کے امام زندہ اور موجود ہیں اور تمہارا حامی اور ہادی ہے لیکن تمہارے لئے ان تک رسائی ممکن نہیں ہے اور امام کوشش کرتے ہیں کہ غیب پر لوگوں کے ایمان کو تقویت پہنچائیں؛ [تو آپ نے ان اہداف تک پہنچنے کے لئے کیا کیا مشکلات برداشت کی ہونگی اور کن کن وسائل اور روشوں سے استفادہ کیا ہوگا، لیکن جو امر مسلّم ہے وہ یہ ہے کہ آپ ان ذمہ داریوں سے بخوبی عبدہ برآ ہوئے]۔
* امام عسکری علیہ السلام کا تیسرا اہم کام امام مہدی عَجَّلَ اللہُ تَعَالَی فَرَجَہُ الشَّریف کا بارہویں امام کے طور پر تعارف کرانا تھا
امام حسن عسکری علیہ السلام کا تیسرا اہم اور خاص کارنامہ یہ تھا کہ مؤمنین کو امام مہدی عَجَّلَ اللہُ تَعَالَی فَرَجَہُ الشَّریف کا بطور امام دوزادہم، تعارف کرا دیں۔ اس مرحلے میں آپ کی پہلی ذمہ داری یہ تھی کہ امام مہدی عَجَّلَ اللہُ تَعَالَی فَرَجَہُ الشَّریف کو عباسی سرکار کے ہاتھوں دہشت گردی کا نشانہ بننے اور قتل ہونے سے محفوظ رکھتے اور ساتھ ساتھ اپنے اصحاب خاص سے آپ کا تعارف کراتے۔
یہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی فعالیتوں کا دشوار ترین اور حساس ترین مرحلہ تھا؛ کیونکہ پہلے دو مراحل میں کسی خاص شخص بطور مصداق لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت نہیں تھی جس کو دشمن کی طرف سے جانی خطرہ ہو یا دشمن اس کو قید کرسکے؛ اور صرف ایک فکر اور ایک سوچ تھی، ایک تزویر (strategy) تھی، لیکن تیسرے مرحلے میں مصداق بھی پیش کرنا تھا، ایک خارجی مصداق، جس کے بارے میں عباسیوں نے اپنے درباری علماء سے بارہا سنا تھا، علویوں کے بزرگوں سے بھی سنا تھا کہ آخری معصوم شخصیت ظلم اور ظالم کا قلع قمع کرے گا۔ اس آخری معصوم شخصیت کی یہ خصوصیت ظالم حکمرانوں کے لئے بہت ناقابل برداشت تھی۔ چنانچہ وہ کڑی نگرانیاں کررہے تھے اور روایات میں اس واقعے کو حضرت موسی علیہ السلام کے قصے سے تشبیہ دی گئی ہے، کہ حتی وہ گہوارے کو بھی تلاش کررہے تھے اور بچوں کی اشیاء ضرورت کو بھی امام عسکری علیہ السلام کے گھر اور اطراف میں ڈھونڈا کرتے تھے اور اگر کوئی ایسی چیز انہیں نظر آتی تھی تو اس کے بارے میں پوچھ گچھ کرتے تھے اور معلوم کرتے تھے کہ یہ اشیاء کیا ہیں اور کس کی ہیں؟ کیا یہاں کوئی بچہ ہے؟ اور اگر بچہ ہے تو کیا اس کا تعلق علویوں سے ہے یا نہیں؟
خوش قسمتی سے امام حسن عسکری علیہ السلام نے یہ بھاری اور دشوار فریضہ بھی نہایت ذکاوت اور کیاست کے ساتھ سرانجام کو پہنچایا اور مختلف شہروں ـ بالخصوص شہر قم، رے، تہران، کاشان، جو کہ شیعہ اکثریتی علاقے تھے ـ میں اپنے خاص اصحاب اور محبین کو آپ کا تعارف کرایا اور غیبت اور ظہور کے بارے میں آگاہ فرمایا۔ یہ کام اس گھٹن کی فضا اور دشوار حالات میں ـ جبکہ شیعیان اہل بیت حتی کہ شارع عام پر بھی امام حسن عسکری علیہ السلام کے ساتھ بات چیت کرنے سے محروم تھے ـ بہت ہی عظیم کام تھا۔
امید ہے کہ تمام شیعیان عالم، ہوشیار مسلمان اور اس امام ہمام کے پیروکار اپنے زمانے کے امام عَجَّلَ اللہُ تَعَالَی فَرَجَہُ الشَّریف کی شناخت اور معرفت کے لئے زیادہ سے زیادہ کوشش کریں، آپ کے ظہور کے لئے ماحول سازی کریں، آپ کے مقاصد کے مخالفین اور آپ کے ظہور کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کی سازشیں آشکار کردیں تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سے لے کر امام حسن عسکری علیہ السلام تک، کی تمام تر کوششیں بارآور ہوں اور دکھی انسانیت کے نجات دہندہ حضرت امام م ح م د المہدی المنتظر عَجَّلَ اللہُ تَعَالَی فَرَجَہُ الشَّریف جلد از جلد ظہور فرمائیں۔
دعائے امام زمانہ عَجَّلَ اللہُ تَعَالَی فَرَجَہُ الشَّریف (اللہم کن لولیک ۔۔۔) اور دعائے فَرَج کو نہ بھولیں اور اپنے حوائج کے لئے بھی یہ دعائیں تلاوت کیا کریں کیونکہ امام عصر عَجَّلَ اللہُ تَعَالَی فَرَجَہُ الشَّریفَ نے فرمایا:
"أكْثِروْا الدُّعَاءَ بِتَعْجِيْلِ الْفَرَجِ فَإِنَّ ذَلِكَ فَرَجُكُمْ؛ جلد از جلد فَرَج کے لئے زیادہ سے زیادہ دعا کرو، کیونکہ یہی آپ کے لئے فَرَج اور کشادگی ہے۔ (1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خطاب: حجت الاسلام والمسلمین حسن غفاری فر
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ صدوق، كمال الدين، ج2، ص485، ح4؛ طوسی، الغيبة، ص293، ح247؛ الطبرسی، منصور أحمد بن علي بن أبي طالب، الاحتجاج على اهل اللجاج، ج2، ص284؛ الطبرسی، الشيخ الفضل بن الحسن، إعلام الورى بأعلام الهدى، ج2، ص272؛ اِرْبِلی، ابوالحسن علی بن عیسی، کَشْفُ الغُمَّة فی مَعْرِفَةِ الأئمّة علیهم السلام، ج3، ص340؛ راوندی، سعید بن هِبةُ الله مشهور به قطب الدین، الخرائج و الجرائح، ج3، ص 1115؛ مجلسی، محمد باقر، بحارالأنوار، ج53، ص181، ح10۔
http://www.alvadossadegh.com/fa/article/emam/hasan-16/16510-316510.html
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۰