بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سعودی جنرل ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ جمعرات، 8 اکتوبر 2026ع کو شاہ خالد ہوائی اڈے پر دو الگ الگ حملے کئے گئے؛ پہلے حملے میں ہوائی اڈے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور دوسرے حملے میں سعودی ایئرلائنز کا ایک خالی مسافر نشانہ بنایا گیا۔
اس ادارے کے مطابق، امدادی ٹیموں اور ذمہ دار اداروں نے واقعات کے فوراً بعد منظور شدہ ہدایات اور منصوبوں کے مطابق ضروری اقدامات شروع کر دیئے۔
الجزیرہ کے حوالے سے، سعودی جنرل ایوی ایشن اتھارٹی نے ان دو حملوں کے نتیجے میں مالی نقصان کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ نقصان کا جائزہ لینے اور ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے متعلقہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ coordination جاری ہے۔ اس ادارے نے زور دیا کہ اٹھائے گئے اقدامات کا مقصد ملک کے ہوابازی نظام کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے اور ہوائی اڈے کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں اور ہوائی آمدورفت معمول پر آ گئی ہے۔
یمن کے یہ حملے یمن کے بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات ـ جیسے پلوں، اسکولوں اور مواصلاتی ٹاورز ـ پر آل سعود حکومت کی جارحیتوں کے جواب میں، کئے گئے ہیں۔
سعودی بادشاہت، یمن کے ہاتھ پٹی ہوئی اپنی اجرتی ملیشیاؤں کی حمایت میں، یمن کے مختلف علاقوں پر بہیمانہ فضائی جارحیتوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور یمنی مجاہدین بھی 'اپنے دفاع کے حق کو بروئے کار لاتے ہوئے' جوابی حملوں میں مصروف ہیں۔
سعودی جنرل ایوی ایشن اتھارٹی نے اعلان کیا کہ ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر دو الگ الگ حملوں کے نتیجے میں تین سعودی شہری ہلاک ہوئے اور کئی دیگر لوگ اور ملک میں مقیم غیر ملکی افراد [یعنی مزدور] زخمی ہوئے۔
اس ادارے نے ہوائی اڈے کی سرگرمیوں کے دوبارہ شروع ہونے اور ہوائی آمدورفت کے معمول پر آنے کی بھی خبر دی، گوکہ پاکستان سمیت کئی ممالک نے ریاض کے لئے اپنی پروازیں معطل کی ہیں اور یمن نے بھی دنیا بھر کی ایئرلائنز کو خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کی فضاؤں میں داخل ہونے سے پرہیز کریں: فضائی ناکہ بندی بمقابلہ فضائی ناکہ بندی؛ ریاض بمقابلہ صنعاء؛ بنیادی ڈھانچے بمقابلہ بنیادی ڈھانچے۔
سعودی جنگی طیاروں نے اس سے قبل بھی صنعا کے ہوائی اڈے پر حملہ کیا تھا۔
نیز سعودی ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ ریاض ہوائی اڈے پر یمن کے جوابی حملے کے نتیجے میں سعودی پائلٹ حمود بن علی الکلثمی ہلاک ہو گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ