9 اکتوبر 2026 - 17:50
دوسری قسط | طوفان الاقصیٰ بالکل بروقت اور اپنے لمحے میں پیش آیا، امامِ شہیدِ انقلاب

امامِ شہیدِ انقلاب نے فرمایا: یہ طوفان الاقصیٰ بالکل اپنے وقت پر اور اپنے لمحے میں پیش آیا۔ میں البتہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ طوفان الاقصیٰ کے منصوبہ ساز جانتے تھے کہ وہ کتنا بڑا کام کر رہے ہیں یا نہیں ـ مجھے نہیں معلوم ـ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کام جو انہوں نے کیا، ایسا کام تھا جس کی جگہ کوئی اور چیز نہیں لے سکتی تھی؛ انہوں نے طوفان الاقصیٰ کے آپریشن سے مغربی ایشیا کے خطے کے خلاف ایک بڑی بین الاقوامی سازش کا خاتمہ کر دیا اور اسے باطل کر دیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امامِ شہیدِ انقلاب امام سید علی خامنہ ای (اعلی اللہ مقامہ) نے فرمایا:

یہ جو آپ دیکھتے ہیں کہ امریکی حکومت دنیا کے تمام انسانوں کی آنکھوں کے سامنے ان جرائم میں مدد کر رہی ہے، یہ ان کے اس نقشے کے باطل ہونے پر ان کے اضطرابی اور غصے پر مبنی ردعمل کی وجہ سے ہے جو انہوں نے بڑی محنت سے بنایا تھا۔ طوفان الاقصیٰ نے ایسا معجزہ دکھایا۔

یہ طوفان الاقصیٰ بالکل اپنے وقت پر اور اپنے لمحے میں پیش آیا۔ میں البتہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ طوفان الاقصیٰ کے منصوبہ ساز جانتے تھے کہ وہ کتنا بڑا کام کر رہے ہیں یا نہیں ـ مجھے نہیں معلوم ـ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کام جو انہوں نے کیا، ایسا کام تھا جس کی جگہ کوئی اور چیز نہیں لے سکتی تھی؛ انہوں نے طوفان الاقصیٰ کے آپریشن سے مغربی ایشیا کے خطے کے خلاف ایک بڑی بین الاقوامی سازش کا خاتمہ کر دیا اور اسے باطل کر دیا۔ یہ پہلا نکتہ۔

اور اب دوسرا نکتہ، جو ہم نے کہا کہ طوفان الاقصیٰ آپریشن صہیونی رجیم پر ایک فیصلہ کن وار تھا، ایسا وار تھا جس کی تلافی ممکن نہیں اور اس نے صہیونی رجیم کو ایسے راستے پر ڈال دیا ہے جس کے اختتام پر زوال اور نیستی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

ہم اس حصے کے بارے میں بہت بات کر چکے ہیں؛ طوفان الاقصیٰ کے وقوع کے آغاز سے اب تک، ہم نے کئی بار اس مسئلے کے بارے میں بات کی ہے؛ آج میں دوسروں کی زبان سے اس بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ اپنی رائے فی الحال ایک طرف رکھتے ہیں؛ میں ان لوگوں کی رائے پیش کرتا ہوں جو رجحان اور رویئے کے لحاظ سے ہمارے ساتھ نہیں ہیں:

تمام مغربی تجزیہ کار، خواہ یورپی، امریکی اور حتیٰ کہ خود صہیونی رجیم سے وابستہ، مانتے ہیں کہ اس آپریشن میں صہیونی رجیم نے تمام دکھاوے اور رعب و دبدبے کے باوجود مزاحمت کے چند گروہوں سے سخت شکست کھائی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صہیونی رجیم طوفان الاقصیٰ کے آٹھ ماہ بعد، ان تمام کوششوں کے باوجود، اپنے کم از کم اہداف میں سے بھی کسی تک نہیں پہنچی؛ یہ مغربی تجزیہ کار کہتے ہیں۔

اس سے بڑھ کر، ایک مغربی تجزیہ کار کی رائے یہ ہے اور وہ اس طرح کہتا ہے کہ طوفان الاقصیٰ ایسا واقعہ ہے جو اکیسویں صدی کو بدل سکتا ہے؛ یہ ایک مشہور مغربی تجزیہ کار کا تصور ہے ـ میں ان کے نام نہیں لینا چاہتا ـ ایک اور تجزیہ کار، ایک دوسرے مغربی تجزیہ کار سے نقل کرتا ہے اور کہتا ہے: طوفان الاقصیٰ دنیا کو بدل دے گا۔

ایک صہیونی سیکیورٹی تجزیہ کار، خود صہیونی رجیم کے اندر سے، [جب] یہ بتانا چاہتا ہے کہ صہیونی رجیم کے سربراہان اور اعلیٰ اہلکاروں کے اندر انتشار ہے، حیرت و گھبراہٹ ہے اور وہ نہیں جانتے کہ کیا کرنا چاہئے، تو اس طرح کہتا ہے کہ "اگر اسرائیل کے اہلکاروں کی بحثوں اور اختلافات کا مواد میڈیا میں شائع ہو جائے تو چار ملین (چالیس لاکھ) [یہودی] لوگ چلے جائیں گے؛ الٹی نقل مکانی؛ یعنی اسرائیل کے اہلکاروں کے درمیان سراسیمگی، انتشار اور گھبراہٹ اس حد تک ہے۔ توجہ کیجئے! یہ بہت اہم ہے۔

ایک اسرائیلی مورخ کہتا ہے: "صہیونی منصوبہ اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے ـ یہ ایک صہیونی تجزیہ کار اور مورخ کہتا ہے ـ اور ہم صہیونی رجیم کے خاتمے کے آغاز پر ہیں؛ فوج جنوبی اور شمالی اسرائیل میں یہودی معاشرے کی حفاظت میں ناکام ہو گئی ہے۔" وہ فوج جو دعویٰ کرتی تھی کہ وہ دنیا کی طاقتور ترین فوجوں میں سے ہے، اپنی [زیر قبضہ] سرزمین کے اندر شکست کھا گئی؛ اس نے کس سے شکست کھائی؟ کسی طاقتور ریاست سے؟ نہیں، مزاحمتی گروہوں سے، حماس سے، حزب اللہ سے؛ ان سے، شکست کھائی۔ طوفان الاقصیٰ یہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب، 4 جون 2024ع‍

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha