22 جون 2018 - 16:18
  صہیونی ریاست کے خلاف جاسوسی کرنے والے اسرائیلی!

اسرائیلی اخبار لکھتا ہے کہ سابق وزیر شگیو پہلی اہم شخصیت نہیں جس نے اسرائیل کے خلاف ایران کو جاسوسی کی خدمات مہیا کیں۔ اس فہرست میں کئی اور بھی نمایاں چہرے شامل ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، حال ہی میں اسرائیلی حکومت نے دعویٰ کیا  کہ اس نے سابق وزیر ’گنون شگیو‘ کو ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ اس خبر کے  بعد عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے ان اہم اسرائیلی شخصیات کے تعارف پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی جس میں اسرائیل کے خلاف دوسرے ملکوں کی خفیہ معلومات فراہم کرنے کی تفصیلات جاری کی گئیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ سابق وزیر شگیو پہلی اہم شخصیت نہیں جس نے اسرائیل کے خلاف ایران کو جاسوسی کی خدمات مہیا کیں۔ اس فہرست میں کئی اور بھی نمایاں چہرے شامل ہیں۔ ذیل میں ان کا تعارف پیش کیا جاتا ہے۔

الیکذنڈر یسرائیل

موصوف اسرائیلی فوج میں افسر رہے۔ سنہ ۱۹۵۴ء میں انہوں نے رقوم کے بدلے مصری انٹیلی جنس کو خفیہ راز فراہم کرنا شروع کیے۔ اسے اسرائیل کے خفیہ ادارے’موساد‘ نے اسرائیل کے ایک ہوائی جہاز سے یورپ جاتے ہوئے اغواء کیا تاہم وہ راستے ہی میں نامعلوم وجووہات کی بناء پر انتقال کرگیا۔ اس  کی لاش ہوائی جہاز ہی سے سمندر برد کردی گئی۔

زئیو ایونی

زئیو ایونی اسرائیل کا ایک سفارت کار تھا اور اسے سنہ ۱۹۵۶ء میں اسرائیل کے خلاف روس کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ سوویت یونین کے خفیہ ادارے’کےجی بی‘ کے لیے کام کرتا رہا ہے۔ اسرائیلی عدالت نے اسے جاسوسی کے جرم میں ۱۴ سال قید کی سزا سنائی۔

الیکذنڈر یولین

الیکذنڈر یولین ایک اسرائیلی سرکردہ سیاسی لیڈر تھا جس کو سنہ۱۹۵۶ء میں یورپی ممالک کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیاگیا۔

کورٹ سیٹا

سنہ ۱۹۶۰ء میں اسرائیل نے پروفیسر کورٹ سیٹا کا ٹرائل شروع کیا اور اس پر الزام عاید کیا گیا کہ اس نے چیکو سلواکیا کو انٹیلی جنس معلومات فراہم کی ہیں۔ پروفیسر سیٹا طبیعات کے سائنسدان مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کی حیفا یونیورسٹی میں التخنیون انسٹیٹیوٹ قائم کیا اور اس کے سربراہ رہے۔ اس کے علاوہ انہیں اسرائیل کی جوہری توانائی کمیٹی کا رکن بھی منتخب کیا گیا۔ چونکہ وہ چیکو سلواکیا کو انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنا چاہتے تھے مگر اس میں کامیاب نہیں ہوئے اسے تین سال قید کی سزا کافی سمجھی گئی۔

یسرائیل بار

سنہ ۱۹۶۱ء میں اسرائیلی فوج نے اپنے ایک سینیر افسر یسرائیل بار کو گرفتار کیا۔ اس پر سوویت انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ مراسم کا الزام عاید کیا گیا۔ اس کے خلاف ٹرائل کے لیے ایک بڑا پینل تشکیل دیا گیا اور عدالت نے بالآخر ۱۰ سال قید کی سزا سنائی۔

اودی آدیب

اودی آدیب اسرائیل میں بائیں بازو کا ایک سرکردہ سماجی کارکن تھا۔ اسے سنہ ۱۹۷۳ء میں شام کے لیے جاسوسی کےالزام میں پکڑا گیا۔ اس پر شامی فوج میں بھرتی کی مہمات میں شامل ہونے اور اسرائیلی فوج کے اہم راز شام کو فراہم کرنے کا الزام عاید کیاگیا۔ اسے یورپ سے گرفتار کرکے لایا گیا اور اس کے خلاف ٹرائل کے بعد  ۱۷ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بعد ازاں اس نے۱۲ سال قید کی سزا پوری کی جس کےبعد سنہ ۱۹۸۵ء میں عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے ساتھ قیدیوں کے ایک تبادلے میں اسے رہا کردیا گیا۔

مارکوس کلینبیرگ

مارکوس اسرائیل کی بائیولیجیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا اہم محقق تھا۔ بعد ازاں اس پر سوویت یونین کے لیے جاسوسی کا الزام عاید کیاگیا۔ سنہ ۱۹۸۳ء میں شاباک اسے بیرون ملک سے گرفتار کرکے اسرائیل لانے میں کامیاب ہوگئی۔ اس کے خلاف جاسوسی کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا جس میں اسے ۲۰ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ رہائی کے بعد وہ فرانس چلا گیا جہاں ایک سوشلسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے جو کچھ کیا وہ درست تھا اور اسے اس پر کوئی ندامت نہیں۔

مرڈ خائی فعنونو

مرڈ خائی فعنونو اسرائیل کے دیمونا ایٹمی پلانٹ میں الیکٹریکل انجینیر تھا۔ اس پر جوہری پلانٹ کی تصاویر ایک برطانوی صحافی کو منتقل کرنے اور معلومات کو فروخت کرنے کے الزام میں روم سے گرفتار کیا گیا۔’موساد‘ اسے گرفتار کرکے اسرائیل لے آئی جہاں اس پر ۱۹۸۸ء میں مقدمہ چلایا گیا اور ۱۸ سال قید کی سزا ہوئی۔ سنہ ۲۰۰۴ء میں اسے جیل سے رہا کیا گیا۔

شبٹائی کلمنوفیٹچ

سنہ ۱۹۷۹ء کے وسط میں اسرائیلی حکومت نے شبٹائی کلمنوفیٹچ پر ’کے جی بی‘ کے لیے جاسوسی کا الزام عاید کیا اور دعویٰ کیا کہ فیٹچ سوویت یونین میں اپنے خاندان کے قیام کے بدلے میں کے جی بی کو انٹیلی جنس معلومات مہیا کررہا ہے۔ اس کے خلاف بھی اسرائیلی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور نو سال قید کی سزا دی گئی۔ رہائی کے بعد وہ روس چلا گیا اور سنہ۲۰۰۹ء میں نامعلوم افراد نے اسے ماسکو میں گولیاں مار کر قتل کردیا۔

ناحوم منبار

منبار اسرائیل کی ایک کاروباری شخصیت ہے۔ سنہ ۱۹۹۰ء میں اس پر تین الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔ ایک الزام ایران کے لیے جاسوسی تھا۔ اسے سنہ ۱۹۹۷ء میں کاروباری سفر سے واپسی پر گرفتار کیا گیا اور سولہ سال جیل میں رکھا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲