اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جاثیہ نیوز کے مطابق، روس کے ماہر سیاسیات ایگور پنکراٹینکو (Igor Pankratinenko) نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ماسکو دورے کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: نیتن یاہو نے ماسکو کا دورہ ایسے حال میں کیا کہ امریکہ کے نائب صدر نے تل ابیب سمیت مشرق وسطی میں اپنا دورہ مکمل کر لیا۔
انہوں نے کہا: نیتن یاہو کے دورے کا اصلی مقصد شام میں ایران کی موجودگی اور شامیوں میں ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ کو کم کروانا تھا۔
پنکراٹینکو نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ نتین یاہو کا یہ دورہ عین اس وقت انجام پایا جب سوچی میں شام کے حوالے سے مذاکرات ہو رہے تھے، کہا: نیتن یاہو کا دورہ سوچی مذاکرات کے دنوں میں انجام پانا کوئی اتفاقی امر نہیں ہے۔ اگر ہم نیتن یاہو کے اس سے پہلے کے روس دوروں کا تجزیہ کریں تو اس نتیجے پر پہنچے گے کہ جب جب اس سے پہلے کرملین نے مشرق وسطیٰ میں کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کی کوشش کی اسرائیلی وزیر اعظم روس پہنچ جاتے رہے۔
انہوں نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ نیتن یاہو ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار نبھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہا: شام کے نظام پسند اور غیر ملکی اداکاروں؛ ترکی، ایران اور روس کے درمیان اسرائیل فقط روس کے ساتھ اپنے مفادات کے حوالے سے گفتگو کر سکتا ہے۔
انہوں نے روس اور امریکہ کے درمیان اسرائیل کی ثالثی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسرائیل صرف وہائٹ ہاؤس کی موقف کو کرملین تک منتقل کر سکتا ہے اور اپنے مشورے دے سکتا ہے تاکہ روس ان اداکاروں کے موقف سے آگاہ ہو سکے۔
اس تجزیہ کار نے کہا: اسرائیل شام میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا چاہتا ہے اور اس ہدف تک پہنچنے کے لیے اسے روس کی طرف سے گرین سنگل دکھائے جانے کی ضرورت ہے۔
پنکراٹینکو نے مزید کہا: ان سب باتوں کے باوجود نیتن یاہو ایران کے جامع ایٹمی معاہدے کے حوالے سے اپنی مرضی کا نتیجے حاصل کرنے میں ناکام ہو گئے اور اس حوالے سے روس کے ٹھوس موقف نے انہیں ناراض کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲