اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/8 ربیع الاول اسیران کربلا کی زندان شام سے رہائی کے بعد مدینہ واپسی کا تاریخی دن ہے۔ اس دن کو ایام عزاء کے اختتام کی علامت تصور کیا جاتا ہے اور اسی روز محرم الحرام و صفر المظفر کی تقریبات اختتام پذیر ہوتی ہیں۔ جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے اس تاریخی دن اور سلسلہ امامت کی 11 ویں کڑی حضرت امام حسن عسکریؑ کے یوم شہادت کی مناسبت سے مرکزی امام باڑہ بڈگام میں مجلس عزا ء منعقد کی گئی۔ مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سیئر حریت رہنما حجۃ الاسلام والمسلمین آغاسید حسن الموسوی الصفوی نے اسیران کربلا کی مدینہ واپسی کے واقعات اور حضرت امام حسن عسکریؑ کے سیرت و کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ دریں اثنا انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے امام حسینؑ اسپتال کی انتظامیہ امام حسینؑ فاؤنڈیشن کے دستور اثاثی کی مکمل طورپر بحالی کو ادارے کے محفوظ مستقبل کیلئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ علماء کونسل میں شامل اہم اراکین کی غیر موجودگی میں لیے گئے فیصلہ جات کی کوئی اہمیت و اعتباریت نہیں۔ ترجمان نے کہا کہ علماء کونسل کے ایک اہم رکن حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کو نہ ہی اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور نہ انہیں اجلاس سے متعلق کوئی علم تھا۔ اس طرح کے اجلاس امام حسین ؑ اسپتال جیسے قومی اثاثے کے تحفظ و ترقی کے حوالے سے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتے۔ ترجمان نے کہا کہ علماء کونسل میں شامل اہم اراکین کی غیر موجودگی میں فاؤنڈیشن کے 25 نومبر کے اجلاس اور اجلاس میں یک طرفہ لیے گئے فیصلہ جات سے انجمن شرعی شیعیان کا کوئی لینا دینا نہیں اور ایسے فیصلے مکمل طور پر غیر آئینی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲