23 اکتوبر 2016 - 11:37
شام کی ارضی سالمیت خطرے میں پڑنے کی صورت میں خطے پر برے اثرات مرتب ہوں گے

روس نے ایک بارپھر شام کے صدربشار اسد کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کی ارضی سالمیت خطرے میں پڑنے کی صورت میں خطے پر برے اثرات مرتب ہوں گے اور دہشت گردوں کے ذریعہ شام کے صدر کو اقتدار سے ہٹانے کے بارے میں سوچنا بھی محال ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق روس نے ایک بارپھر شام کے صدربشار اسد کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کی ارضی سالمیت خطرے میں پڑنے کی صورت میں خطے پر برے اثرات مرتب ہوں گے اور دہشت گردوں کے ذریعہ شام کے صدر کو اقتدار سے ہٹانے کے بارے میں سوچنا بھی محال ہے۔ روسی صدرولاد میر پوتین کے ترجمان دمتری پیسکوف کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ بشارالاسد کوبرسراقتداررہنے کی ضرورت ہے تاکہ شام کو دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے سے بچایا جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت 2 ہی آپشن ہیں، بشارالاسد دمشق میں بیٹھے رہیں یا پھر النصرۃ فرنٹ اور فتح الشام محاذ دمشق میں بیٹھیں مگر شامی صدرکو دمشق میں تنازع کے سیاسی حل کے لیے رہنا چاہیے۔

دمتری پیسکوف کا شام میں فضائی بمباری کا دفاع کرتے ہوئے کہنا تھا کہ فضائی کارروائی کا مقصد دہشت گردوں کے خلاف لڑنا ہے جب کہ شامی حکومت کے گھر جانے کی صورت میں مزید مہاجرین یورپ کا رُخ کرسکتے ہیں جو یورپی ممالک میں دہشت گردانہ حملوں کا باعث بن سکتے ہیں۔روسی صدر کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بعض ممالک دہشت گردوں کو استعمال کر کے بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں اور بعض سوچے سمجھے بغیر شامی صدر کو اقتدار چھوڑنے کا کہہ رہے ہیں لیکن اگر دمشق پر دہشت گرد قابض ہو گئے تو پھر اس بحران کا کوئی سیاسی حل نہیں نکل سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ شامی تنازع کے جلد حل کی بہت تھوڑی امید ہے، اس بحران کو حل کرنے کے لیے عالمی برادری کو طویل اور انتھک محنت کرنا ہوگی، تمام شامی علاقوں کودہشت گردوں سے آزاد کرایا جانا چاہیئے اورملک کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے ہرممکن اقدام اٹھانے چاہیئیں کیونکہ اگرشام کے ٹکڑے ہوئے تواس کے پورے خطے پرسنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169