اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے وادی کے اطراف و اکناف میں جلوس ہائے علم شریف کی برآمدگی کا سلسلہ ساتویں محرم کو بھی جاری رہا۔ جن مقامات پر علم شریف کے بڑے بڑے جلوس برآمد کئے گئے ان میں اندرون کاٹھی دروازہ رعناواری ،آستان محلہ ماگام، پاٹواو بڈگام، کری پورہ بڈگام وغیرہ شامل ہیں۔ اندرون کاٹھی دروازہ رعناواری کے جلوس عزا پر حکومت کی طرف سے اعلانیہ قدغن کے باوجود عزاداروں نے کرفیو اور بندشوں کو توڑ کر جلوس برآمد کیا۔ یہاں تک کہ شرکائے جلوس کی تعداد دسیوں ہزار تک پہنچ گئی۔جلوس عزا کے دوران عزاداروں نے نوحہ اور مرثیہ خوانی کے ساتھ ساتھ وادی میں جاری بھارتی جبروبربریت اور محرم جلوسوں میں رخنہ ڈالنے اور اعلانیہ و غیر اعلانیہ قدغن کی غیر مرئی حکومتی منصوبہ بندیوں کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ عزاداروں نے انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنماحجة الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی تین ماہ سے مسلسل خانہ نظر بندی اور ایام محرم کے حوالے سے موصوف کی فرائض منصبی پر قدغن کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔
واضح رہے کہ ایام محرم کے دوران تنظیم کے اہتمام سے وادی کے اطراف وا کناف میں برآمد ہونے والے بڑے جلوس ہائے عزا میں آغا صاحب وعظ و تبلیغ فرماتے تھے۔لیکن خانہ نظر بندی کے باعث ابھی تک آغا صاحب کسی بھی محرم جلوس میں شامل نہ ہوسکے۔ دریں اثنا انجمن شرعی شیعیان کے خانہ نظر بند سربراہ نے سعدہ پورہ عید گاہ میں فورسز کے ہاتھوں 13 سالہ کمسن طالب علم کی المناک شہادت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اسے بے لگام فورسز کا ایک اورسیاہ کارنامہ قراردیا۔ آغا صاحب نے شہید کے لواحقین سے تعزیت و تسلیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کا خون ناحق رائیگان نہیں جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ ایک طرف حکومت طالب علموں کے تعلیمی مستقبل پردکھاوے کی فکر مندی کا مظاہرہ کررہی ہے اور دوسری طرف سرکاری فورسز ان ہی کمسن بچوں کو پیلٹ کا نشانہ بناکر ابدی نیند سلارہی ہے اور ارباب اقتدار کمسنوں کی ہلاکتوں کو روکنے سے قاصر نظر آرہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲