اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ علیحدگی پسند جماعتوں نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اتوار کو دو بجے کے بعد ہڑتال ختم کرکے دوکانیں اور کاروباری و تجارتی مراکز کھول دیں- اس اعلان کے بعد بازاروں میں جہاں لوگوں کی آمد و رفت دیکھی گئی وہیں وادی کے سبھی اضلاع میں سڑکوں پر ٹریفک بھی نظر آیا -
اس درمیان وادی کے سوپور اور اننتناگ علاقوں میں ایک بار پھر لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر پرتشدد مظاہرے کئے جن کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں -
دوسری جانب جموں صوبے کے کشتواڑ قصبے میں حالات اس وقت کشیدہ ہوگئے جب پولیس نے مقامی لوگوں کے بقول ان نوجوانوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جو علیحدگی پسند جماعتوں کے پروگراموں کو کامیاب بنانے کے لئے پیش پیش تھے -
اس موقع پر مقامی آبادی گھروں سے باہر نکل آئی اور نوجوانوں کو پولیس کے ہاتھوں گرفتار نہیں ہونے دیا - مقامی آبادی نے پولیس کے اقدام پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کردی اور حالات بگڑتے چلے گئے- صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے کشتواڑ میں غیر معینہ مدت کا کرفیو لگادیا ہے-
دریں اثنا ہندوستان کے زیرانتظام ریاست جموں کشمیر کی وزیراعلی محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان عارضی جنگ بندی یا صلح کی خواہشمند نہیں ہیں بلکہ ان کی کوشش ہے کہ ایسا ماحول تیار کیا جانا چاہئے جس میں تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جاسکے-
سری نگر میں اپنے ایک بیان میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس وقت کشمیر کی جو صورت حال ہے اس پر وہ کافی رنجیدہ ہیں اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لئے وہ ایک ایسا ماحول تیار کرنے کی کوشش کررہی ہیں جس میں آئندہ اس طرح کی شورش کا سامنا نہ کرنا پڑے-
ان کا کہنا تھا کہ وادی میں امن و قانون کی صورتحال میں بہتری کے ساتھ ہی ، وہ ایسا ماحول بنانے کے لئے سرگرم ہوجائیں گی - محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہندوستانی وزیراعظم نریندرمودی نے بھی ان سے وعدہ کیا ہے کہ تمام پیچیدہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جائےگا -
انہوں نےاس بات کا اعتراف کیا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا عمل ممکن نہیں ہے تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کشمیر میں صورتحال بہتر ہونے کے بعد مذاکرات کے لئے ماحول بھی سازگار ہوجائےگا -
انہوں نے ساتھ ہی مرکزی حکومت سے بھی کہا کہ کشمیر میں حالات کو بہتر بنانے کے لئے اس کو غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے جن کا براہ راست اثر کشمیر کے زمینی حقائق پر مرتب ہوں -
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲