اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستان کے ایوان ہائے تجارت و صنعت (FPCCI) کے سربراہ نے پاک، ایران بینکنگ تعلقات کی بحالی پر زور دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل کے لئے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے.
اس موقع پر انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ دونوں ممالک باہمی تجارتی اور اقتصادی تعاون کی راہ میں رکاوٹوں کے خاتمے کے لئے مشترکہ کوششوں میں اضافہ کریں.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران مخالف پابندیوں کا خاتمہ تو ہوا ہے مگر پاکستان اور ایران کے درمیان اب بهی تجارتی عمل سست روی کا شکار ہے. ایسا لگ رہا ہے کہ باہمی تجارتی معاملات بالخصوص بینکنگ تعلقات میں اب بهی رکاوٹیں موجود ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ بینکنگ مسائل کے خاتمے سے پاک،ایران تجارتی تعلقات کو مزید وسعت ملے گی.
پاکستانی تاجر برادری کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور پاکستان دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو بڑهانے کے لئے اچهی صلاحیتوں کے حامل ہیں اور اس حوالے سے باہمی تجارتی حجم کو پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کی خواب کو پورا رکنے میں دونوں ممالک کے پاس ضروریات موجود ہیں.
رئوف عالم نے کہا کہ پاکستان کو توانائی کی شدید ضرورت ہے اور ہم اپنی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایران گیس پائپ لائن کو ایک اہم حکمت عملی اور سنگ میل سمجهتے ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایران کے ساته تجارت اور کاروباری شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید بڑهانے کی خواہش رکهتا ہے.
فیڈریشن آف پاکستان چیمبر زآف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کہا کہ چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بهی چابہار اور گوادر بندرگاہیں اپنے پیشہ وارانہ کام کا آغاز کریں گی مگر یہ دو بندرگارہیں ایک دوسرے کے رقیب نہیں بلکہ مثبت اور سازگار ماحول باہمی تعاون کی راہ پر گامزن ہوں گی.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں مکمل طور پر اپنے دوست اور پڑوسی ملک اسلامی جمہوریہ ایران پر یقین ہے کہ وہ ہرگز چابہار بندرگاہ کو پاکستانی مفادات کیخلاف استعمال نہیں ہونے دے گا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲