اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/مزاحمتی قیادت کے متحدہ احتجاجی پروگرام کے تحت بڈگام چلو کال کے دوسرے روز بھی فورسز نے ضلع ہیڈکواٹر بڈگام کو سیل کرکے رکھ دیا اور ضلع ہیڈکواٹر کی طرف آنے والے تمام راستوں پر کڑے پہرے بٹھا دیئے ۔ اس دوران انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور حریت کانفرنس کے سینئر رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی جو گزشتہ 72 روز سے متواتر خانہ نظربند ہیں کی رہائش گاہ پر فورسز کا محاصرہ مزید سخت کیا گیا تھا اور کسی کو بھی اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تاہم آغا صاحب نے خانہ نظر بندی کو توڑ کر اپنے کئی تنظیمی رفقاءکے ہمراہ احتجاجی جلوس نکالا۔ فورسز نے آغا صاحب نے مین گیٹ کو مقفل کیا اور سڑک پر خاردار تاریں پہلے سے ہی بچھا رکھی تھی۔ آغا صاحب اور اُن کے ساتھی مین گیٹ پر کافی دیر تک آزادی کے حق میں اور بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے خلاف نعرہ بازی کرتے رہے لیکن فورسز نے انہیں کسی بھی صورت میں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی بعد ازاں آغا صاحب نے تنظیمی ساتھیوں سمیت مین گیٹ پر ہی بر لب سڑک بطور احتجاج نماز ظہر ادا کی اور گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران فورسز کے ہاتھوں شہید ہوئے نہتے مظاہرین کے ایصال ثواب اور زخمیوں کی جلد شفایابی کیلئے دعا کی۔ آغا صاحب نے فورسز کے ہاتھوں ہارون سرینگر کے کمسن طالب علم کے دردناک شہادت پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایک طرف ارباب اقتدار کشمیر کے طالب علموں کے تعلیمی مستقبل پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں اور دوسری جانب انہی کمسن طلاب کو بے دردی کے ساتھ پیلٹ کا نشانہ بنا کر فورسز کی بربریت کو سند جواز فراہم کیا جارہا ہے۔ آغا صاحب نے شہید طالب علم کے لواحقین سے دلی تعزیت و تسلیت کا اظہار کیا۔ دریں اثناءانجمن شرعی شیعیان زونل کمیٹی شالیمار کے اراکین پر مشتمل ایک وفد علی محمد خان کی قیادت میں شہیدموصوف کے گھر تعزیت پُرسی کیلئے گیالیکن فورسزنے وفد کو شہیدموصوف کے گھر سے باہر روک دیااور ڈرا دھمکا کر واپس لوٹنے کیلئے مجبور کیا ۔ادھر امام باڑہ گلشن باغ سرینگر میں مجلس اعزا منعقد ہوئی جسمیں گزشتہ اڈھائی ماہ کے دوران جانبحق ہوئے نوجوانوں کے ایصال ثواب اور زخمیوں کی شفا یابی کیلئے دعا کی گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲