21 اپریل 2015 - 15:33
بحیرہ روم کے واقعات پر موگرینی کا رد عمل

بحیرہ روم میں تین سو پناہ گزینوں کے حامل بحری جہاز کی جانب سے مدد کی درخواست کے بعد یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے یورپی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پناہ گزینوں کے بحران سے متعلق فوری اقدام عمل میں نہ لائے جانے کے بارے میں کوئی بھی عذر قابل قبول نہیں ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق لیبیا کے ساحل کے قریب پناہ گزینوں سے بھرے ایک بحری جہاز کے غرق ہونے کے ایک دن بعد کہ جس میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں، یورپی ممالک کے وزرائے داخلہ اور خارجہ نے لگزمبرگ میں ایک اجلاس میں ان افراد کی مشکلات و مسائل کا جائزہ لیا ہے جو نا امیدی اور مایوسی کے عالم میں خود کو یورپ پہنچانے کی کوشش میں ہیں۔

ایک ایسے وقت میں کہ جب اتوار کے روز بحری جہاز کے حادثے میں بچ جانے والے افراد بحری جہاز پر سوار افراد کی تعداد ایک ہزار تک بتا رہے ہیں، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزیناں نے کہا ہے کہ اس حادثے میں سات سو افراد کے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا امکان ہے۔
ایمیگریشن کی بین الاقوامی تنظیم نے کہا ہے کہ پیر کے روز بھی بحیرہ روم میں ایک اور جہاز سے، ہنگامی امداد کی درخواست کا سگنل موصول ہوا ہے۔ اس تنظیم کے سربراہ فیڈریکو سودا نے کہا ہے کہ رابطہ کرنے والے شخص نے کہا ہے کہ تین سو سے زیاد مسافر اس بحری جہاز میں موجود ہیں جو ڈوب رہے ہیں اور اب تک بیس افراد اپنی جانوں سے دھو چکے ہیں۔
در ایں اثنا یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے یورپی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پناہ گزینوں کے بحران سے متعلق فوری اقدام عمل میں نہ لائے جانے کے بارے میں کوئی بھی عذر قابل قبول نہیں ہے۔ رپورٹوں کے مطابق تقریبا ایک لاکھ ستر ہزار پناہ گزیں دو ہزار چودہ میں اٹلی کے راستے یورپی یونین میں داخل ہوئے اور اگر پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو توقع کی جارہی ہےکہ رواں سال میں اس اعداد و شمار میں مزید اضافہ ہو گا۔ اٹلی نے، جو سب سے زیادہ پناہ گزینوں کی مشکلات کا سامنا رہا ہے، یورپی یونین میں اپنے شریک ممالک کے ناکافی اقدامات پر اعتراض کیا ہے۔
اتوار کو پیش آنے والے حادثے سے قبل بھی پناہ گزینوں کو لے جانے والے دو بحری جہاز غرق ہو گئے تھے جن میں چار سو پچاس افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ۔ اگر یہ تعداد صحیح مان لی جائے تو دو ہزار پندرہ کے آغاز سے لیکر اب تک سمندر کے راستے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے سولہ سو افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

.......

/169