15 اپریل 2015 - 18:34
الانبار کی آزادی میں کرد فورس کا خیر مقدم

عراق کی رضاکار فورس کے ترجمان نے صوبہ الانبار اور دیگر مقبوضہ صوبوں کی آزادی کے آپریشن میں کرد پیشمرگہ فورس کی شرکت کا خیرمقدم کیا ہے-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رپورٹ کے مطابق کریم نوری نے کہا کہ صوبہ الانبار کی آزادی کے آپریشن میں کرد پیشمرگہ فورس کی شرکت اور داعش کے ساتھ ان کے مقابلے کے راستے میں کوئی رکاوٹ موجود نہیں ہے- انھوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ عراق کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کا حکم ملتے ہی داعش کے خلاف جنگ شروع کر دیں گے، صوبہ الانبار کی کونسل سے اپیل کی کہ وہ داعش کے ساتھ جنگ میں سچے دل سے عمل کرے- دوسری جانب عراقی کردستان کی انتظامیہ کے سربراہ مسعود بارزانی نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کرد پیشمرگہ فورس نے اپنے کم ہتھیاروں کے ساتھ بیس ہزار مربع کلومیٹر علاقوں کو آزاد کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے، کہا کہ موصل میں داعش کی موجودگی کردستان کے علاقے کے لیے مستقل خطرہ ہے لہذا موصل کی آزادی کی کارروائی میں پیشمرگہ فورس کی شرکت ضروری ہے- مسعود بارزانی نے کہا کہ موصل کی آزادی کی کارروائی میں پیشمرگہ فورس کی شرکت کی نوعیت، عراقی وزیراعظم کے حالیہ دورہ اربیل کے دوران تشکیل پانے والے کمیشن کے ارکان کے مذاکرات کے نتائج سے مشروط ہے- دوسری جانب صوبہ صلاح کی آزادی کے آپریشن کے کمانڈر جنرل عبدالوہاب الساعدی نے کہا ہے کہ تکریت کے بعض علاقوں کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کا تیسرا اور آخری مرحلہ شروع ہو گیا ہے- انھوں نے کہا کہ اس کارروائی کا ہدف الصینیہ، المملحہ، البوجواری، المزرعہ اور بیجی آئل ریفائنری جیسے علاقے ہیں- صوبہ صلاح الدین کے ڈپٹی گورنر عمار البلداوی نے منگل کے روز تکریت میں بیجی آئل ریفائنری پر عراقی فورسز کے مکمل کنٹرول اور داعش کے دسیوں دہشت گردوں کی ہلاکت کی خبر دی تھی- دوسری جانب موصل میں ایک باخبر ذریعے نے کہا ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش کے بہت سے دستے موصل کے بہت سے علاقوں سے اچانک ترکی کے علاقے غازی انتب اور شام کے علاقے رقہ کی طرف پسپا ہو گئے ہیں- اس ذریعے نے مزید کہا کہ یہ پسپائی دو روز قبل شروع ہوئی اور داعش کے دہشت گردوں نے، دستوں کی شکل میں غازی انتب اور رقہ کی طرف پسپائی اختیار کی ہے- بتایا جاتا ہے کہ داعش سے وابستہ دہشت گردوں نے دوسہ، باب الطوب اور حمام العلیل جیسے علاقوں کو تقریبا خالی کر دیا ہے-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲