اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کے روز نسل پرستی کے مخالف افراد اور ڈیلس میں مقیم نیکسٹ جنریشن ایکشن نیٹ ورک نامی گروہ کے کئی ارکان نے اوکلاہوما یوریورسٹی کے سابق طالب علم پارکر رائس کے گھر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
پارکر رائس انٹرنیٹ پر جاری ہونے والی اس فلم میں دکھائی دے رہا ہے اور احتجاجی مظاہرین کے سامنے اس کی معافی بھی مظاہرین کے غصے کو کم نہ کر سکی۔ ان طلبہ نے نعرہ لگایا تھا کہ سیاہ فام طلبہ کو اوکلاہوما یونیورسٹی کے کسی بھی شعبے میں کبھی بھی داخلہ نہیں ملے گا۔
انٹرنیٹ پر اس ویڈیو کے اپ لوڈ ہونے کے بعد اس پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور طلبہ کو امید ہے کہ اس سے اوکلاہما یونیورسٹی میں بہت سی مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گی- امریکہ کے قومی ادارے" سگما الفا ایپسیلون" نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ انجام پانے والی تحقیقات کے بعد دس سیکنڈ پر مشتمل اس فلم کے اصلی ہونے کی تائید و تصدیق کرتا ہے کہ جس میں اوکلاہما یونیورسٹی کے چند طلبہ ایک بس میں نسل پرستانہ گانا گا رہے ہیں۔
اس قومی ادارے نے بیان میں مزید کہا ہے کہ ہم اس فلم میں طلبہ کے نسل پرستانہ اور ناقابل رویے پر معافی چاہتے ہیں- اس قسم کے نسل پرستانہ اقدامات برداشت نہیں کیے جائیں گے اور یہ ہماری یونیورسٹی کے اقدار کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے ہیں- اوکلاہما یونیورسٹی کے چانسلر "ڈیوڈ بورن" نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ انھیں اس فلم کے بارے میں اطلاع ملی ہے اور یونیورسٹی اس بارے میں تحقیقات کرے گی۔
انھوں نے دعوی کیا کہ اگر ہمارے طلبہ اس میں ملوث ہوئے تو یہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف فوری کارروائی ہو گی- امریکہ میں انسانی حقوق کی حامی تنظیموں کی تقریبا نصف صدی کی مسلسل کوششوں کے باعث امریکہ میں سیاہ فاموں کے خلاف امتیازی رویے میں تبدیلیاں رونما ہوئیں اور انھیں سفید فام شہریوں کے برابر حقوق حاصل ہوئے لیکن امریکہ میں اب بھی سماجی اور نسلی امتیاز بدستور جاری ہے-
فرگوسن کے عوام نے امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف اپنے وسیع احتجاجی مظاہروں کو جاری رکھتے ہوئے بدھ کی رات ریاست میسوری کے شہر سینٹ لوئیس میں مظاہرہ کیا- فرگوسن میں اگست دو ہزار چودہ میں ایک سفید پولیس اہلکار کے ہاتھوں ایک انیس سالہ سیاہ فام نوجوان مائیکل براؤن کے قتل کے بعد اس شہر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
گزشتہ ہفتے امریکی وزارت انصاف کی جانب سے مامور کی گئی خصوصی کمیٹی نے مائیکل براؤن کے قتل کے بارے میں ایک سو پانچ صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ میں فرگوسن شہر کی پولیس کے امتیازی سلوک اور قانون شکنی کے بے شمار واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جس پر ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا۔
اس رپورٹ کے منظرعام پر آنے کے بعد فرگوسن شہر کے مقامی جج "رونالڈ بروک میر" نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا- اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے انسپکٹروں نے گزشتہ سال دسمبر میں امریکی سیاہ فام ملزموں کو دی جانے والی سزاؤں اور اسی سے ملتے جلتے مواقع پر سفید فام ملزموں کو چھوٹ دیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
.......
/169