اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے درعا کے اطراف کے علاقوں میں دہشت گردوں کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد "تلہ قرین" نامی اسٹریٹجک علاقے پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ شامی فوج جنوبی علاقے قنیطرہ میں بھی پیشقدمی کررہی ہے اور اس نے اس علاقے کے بعض علاقوں پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ شامی فوج نے اسی طرح صوبہ الحسکہ میں واقع القامشلی کے جنوب میں ایک اسٹریٹجک علاقے کو داعش کے قبضے سے آزاد کرالیا ہے۔ شامی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی ان کاروائیوں کے ساتھ ہی اس ملک کے مختلف علاقوں خاص طور پر حلب میں بھی فوج اور دہشت گردوں کے درمیان شدید لڑائی کی خبریں موصول ہورہی ہیں، جس کی وجہ سے دہشت گردوں میں سخت سراسیمگی پائی جارہی ہے۔ دوسری جانب شام کی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے نام علیحدہ علیحدہ مراسلے ارسال کرکے شمالی شام کے صوبے الحسکہ کے مضافات میں عام شہریوں کے خلاف داعش دہشت گرد گروہ کی انسانیت سوز کاروائيوں کا حوالہ دیتے ہوئے، دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں سلامتی کونسل کی قراردادوں 2170 ، 2178، اور2199 پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان قراردادوں کو صرف کاغذ کی ہی زینت نہیں بننا چاہئیے۔ ادھر شام کی پارلیمنٹ کے اسپیکر جہاد اللحام نے بھی مغربی ملکوں سے کہا ہے کہ وہ شام کے بارے میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔ شامی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد جہاداللحام نے لبنانی اخبارالسفیر کے ساتھ انٹرویو میں فرانس کے ایک پارلیمانی وفد کے حالیہ دورۂ شام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وفد کا دورۂ دمشق پوری دنیا کے لئے سیاسی پیغام کا حامل ہے کہ مغرب اپنی پالیسیوں پرنظر ثانی کرے۔ محمد جہاد اللحام نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دہشت گردوں، خاص طور پر داعش اور جبھۃ النصرۃ سے مقابلے کے لئےمغربی ممالک شام کی حکومت کے ساتھ مذاکرات اور تعاون کریں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ فرانس کے پارلیمانی وفد کے دورہ شام کے ہی موقع پر ایک امریکی وفد نے بھی دمشق میں شامی حکام سے مذاکرات انجام دیئے ہیں۔ شام کے بحران سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ اور سابق امریکی وزیر قانون رمزی کلارک نے شام میں بشار اسد کی مشیر بثینہ شعبان کے ساتھ ملاقات میں، شام کی حکومت پر اس ملک کے عوام کے اعتماد کو سراہا اور دہشت گردی سے مقابلے کے لئے شام کے عوام اور حکومت کی کوششوں کی تعریف کی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور فرانس کے وفود کے دورہ شام نے عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲