اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسپین کی سکیورٹی فورسز نے ایک آن لائن نیٹ ورک سے منسلک ایسے گروہ کے افراد کو گرفتار کیا ہے جو شام اور عراق میں سرگرم عمل سلفی وہابی دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے لئے نوجوان لڑکیوں کو بھرتی کرتے تھے۔اسپین کے علاقے ’’ ملیحہ ‘‘ سے گرفتار کئے جانے والے افراد پر الزام ہے کہ وہ انٹر نیٹ کے متعدد پلیٹ فارمز پر پروپیگنڈہ پھیلانے میں مصروف تھے۔ ہسپانوی وزارت داخلہ کے مطابق یہ کام خاص طور پر نام نہاد اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے لئے کیا جا رہا تھا۔ جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ افراد دہشت گرد تنظیم داعش کی حکمت عملی کی لائن پر عمل پیرا تھے اور خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کو بھرتی کرنے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے تھے۔ لڑکیوں کے تعارفی عمل کے بعد انہیں دہشت گرد گروپ میں شمولیت کے لئے جنگ زدہ علاقوں میں بھیج دیا جاتا تھا۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے لئے یہ لوگ خفیہ طور پر متعدد گھروں کا دورہ کرتے ہیں جس سے کئی نوجوان جنگ زدہ علاقوں میں جانے کی تیاری بھی کر چکے تھے۔گرفتار شدگان میں سے ایک شخص نام نہاد اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے لئے ’’ورچوئل کمیونٹی‘‘ کے نام سے نیٹ ورک چلا رہا تھا ، جس کے ایک ہزار سے زائد ممبرز تھے۔حکام کے مطابق اس ورچوئل کمیونٹی کے اراکین میں لاطینی امریکہ، بیلجیم، فرانس، مراکش، پاکستان، سعودی عرب، تیونس، امریکہ اور ترکی کے لوگ بھی شامل ہیں۔ اسی طرح اسپین کے جنوب مشرقی علاقے سے ایک اور مشتبہ شخص کو نام نہاد اسلامک اسٹیٹ سے ہمدردیاں رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا جو کسی نیٹ ورک کی بجائے اکیلا ہی کام کر رہا تھا۔ایک اندازے کے مطابق یورپ سے تقریباً 550خواتین جہاد النکاح یا فساد کی غرض سے شام اور عراق جا کر ’’اسلامک اسٹیٹ‘‘ میں شمولیت اختیار کر چکی ہیں۔ ہسپانوی حکام کے مطابق ان کے تقریباً ایک سو شہری آئی ایس آئی ایس میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ میڈرڈ حکومت نے حال ہی میں ایسی دو لڑکیوں کو سفر شروع کرنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا،جو داعش میں شمولیت اختیار کرنا چاہتی تھیں۔یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں۔ بعض ذراغ کے مطابق سلفی وہابی دہشت گردوں کی پشت پر مغربی ممالک بالخصوص امریکہ ، برطانیہ، اسرائيل، ترکی، قطر اور سعودی عرب کی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔ داعش کے پاس ہتھیاروں سے صاف طور پر پتہ چلتا ہے کہ اس کے پیچھے کئی مستقل ممالک کا ہاتھ ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کیونکہ شام کی حکومت کو گرانے کے لئے ترکی، سعودی عرب ،قطر امریکہ اوراسرائیل نے دوسال تک کھل کر داعش دہشت گردوں کی حمایت کی ۔ لیکن جب داعش نے اپنا کام عارق اور شام سے آگے بڑھانے کے لئے قدم اٹھایا تو اس کے حامی ہی اس کے خلاف کھڑے ہوگئے اور اللہ تعالی نے ظالموں کو ظالموں سے لڑا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169