27 فروری 2015 - 07:29
جینوا مذاکرات: ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ کا بیان

ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ نے کہا ہےکہ جینوا مذاکرات کے مثبت نتائج نکلے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے کہا کہ ہم نے جینوا مذاکرات میں فنی مسائل کا جائزہ لیا جن پر مذاکرات ایک طرح سے تعطل کا شکار ہوگئے تھے۔ علی اکبر صالحی نے کہا کہ بڑی خوشی کی بات ہےکہ مذاکرات کے نتائج اچھے نکلے ہیں اور ہم نے بڑے قدم اٹھائے ہیں۔

انہوں نے جینوا میں امریکہ کے وزیر انرجی کے ساتھ اپنے مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ البتہ ابھی بھی کچھ ایسے مسائل ہيں جن پر بحث و گفتگو ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ پیر کو اسی سلسلے میں سوئزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ہونگے۔

علی اکبر صالحی نے کہا کہ ایٹمی مذاکرات تکنیکی، قانونی اور سیاسی پہلوؤں کے حامل ہیں اور تکنیکی مسائل کے حل سے قانونی اور سیاسی مسائل حل ہوجائيں گے۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی مذاکرات میں بھی ہمیں اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کوشش کرنی ہے کہ مد مقابل کی بے بنیاد تشویشوں کو تکنیکی لحاظ سے دور کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بخوبی اپنے قومی مفادات کا تحفظ کیا ہے اور ایٹمی پروگرام اور اس صنعت کو مکمل طرح سے باقی رکھنے کی کوشش میں کامیاب رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملکوں میں چھوٹے ایٹمی ری ایکٹروں کو کم سرمایہ کاری سے زیادہ منافع حاصل کرنے کی اسٹراٹیجی کے طور پر تسلیم کرلیا گيا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایک ہزار چھے سو میگاواٹ کا ایٹمی ری ایکٹر بنانے کے لئے پندرہ ارب ڈالر کی ضرورت ہے جبکہ پچاس سے سو ميگاواٹ کے ایٹمی ری ایکٹروں پر بہت کم سرمایہ لگتا ہے۔

.......

/169