اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رپورٹ کے مطابق صوبہ سین کیانگ کے شہر یاقارین کے ڈپٹی میئر نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں ہونے والی جھڑپ میں سترہ افراد کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ اس صوبے میں ایغور مسلمان اقلیت بھی رہتی ہے۔ یاقارین سٹی کے ڈپٹی میئر کے مطابق یہ جھڑپیں سترہ فروری کو اس وقت ہوئیں جب پولیس نے گھروں کی تلاشی لینی شروع کردی۔ شہریاقارین کے ڈپٹی میئر نے بتایا کہ پولیس کی تلاشی کے دوران دس افراد پر مشتمل ایک گروہ نے چاقوؤں اور کلہاڑیوں سے پولیس پر حملہ کردیا جس کے جواب میں مسلح پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ اس تصادم میں متعدد راہگیروں سمیت ایغور کی پولیس فورس کے سربراہ، چار پولیس افسر اور تین پولیس اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔ تینوں زخمی اہلکار بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوگئے۔ جھڑپوں میں نو اویغور باشندے بھی مارے گئے ہيں۔ کہا جا رہا ہے کہ جو راہ گیر مارے گئے ہيں ان میں مقامی اسپتال کے سربراہ اور ان کی بیٹی بھی شامل ہے۔ چین کا صوبہ سین کیانگ گذشتہ کئی برسوں سے ایغور اور دوسرے چینی گروہوں کے درمیان کشیدگي کے باعث تشدد کی لپیٹ میں ہے۔ چینی حکام، علحدگي پسندوں اور دہشتگردوں کو سین کیانگ میں نسلی تشدد کا سبب سمجھتے ہيں۔ ایتارتاس نیوزایجنسی کے مطابق بہت سے اویغور، چینی حکام اور ان کی امتیازی اور مذہب مخالف پالیسیوں کو تشدد پھیلنے کا وجہ قرار دیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲