اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق مجمع جہانی اہل بیت (ع) کے سربراہ کا اسلام ٹائمز کیساتھ خصوصی انٹرویو میں کہنا تھا کہ کہ الحمدللہ اسلامی بیداری کی لہر دنیا بھر میں پھیل رہی ہے۔ امام خمینی (رہ) کی سرپرستی میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد دنیا میں اسلام نے ترقی کی۔ بہت سارے ممالک میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ غیر مسلم اسلام کی طرف آرہے ہیں، خود مسلمان بھی جس غفلت میں مبتلا تھے اور جس سستی کا شکار تھے، آج ان میں ہوشیاری و بیدار ی پیدا ہوئی ہے، مسلمانوں کی کوشش ہے کہ ہر ملک میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کریں۔ یہ امام خمینی (رہ) کی عظیم فکر اور دور اندیشی کا نتیجہ ہے۔ انقلاب اسلامی ایران کے بعد مسلمانوں نے جانا کہ اسلامی حکومت موجود ہے، دین اسلام انسانوں کی رہنمائی اور ان پر حکومت کرسکتا ہے۔ اسلام دشمن طاقتیں کوشش کر رہی ہیں کہ بیداری اسلامی کو منحرف کریں، اور بعض ممالک میں وہ کامیاب بھی ہوگئے۔ البتہ بعض ممالک مثلاً عراق میں شیعہ سنی ملکر اسلامی حکومت چلا رہے ہیں۔ اسی طرح یمن میں بھی مسلمان کوشش کر رہے ہیں کہ اپنا مقام حاصل کریں۔ شام و لبنان میں خط مقاومت نے جگہ بنالی ہے۔ اگرچہ امریکہ و اسرائیل نے بڑی کوشش کی کہ جبھہ مقاومت کو کمزور اور ختم کرے، لیکن الحمدللہ وپ اہسا نہ کرسکے۔ بشار الاسد کی حکومت ابھی تک کامیاب رہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط تر ہو رہی ہے۔
آیت اللہ شیخ محمد حسن اختری کا تعلق اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک انقلانی خانوادہ سے ہے، بعد از انقلاب امام خمینی (رہ) کی نگاہ میں شام و لبنان میں کام کرنا انتہائی مشکل تھا، انہی دو ممالک میں پہلے روحانی سفیر کے طور پر آپ کو نامزد کیا گیا۔ آپ نے بارہ سال سفارتکاری کی اور حزب اللہ لبنان کو بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ آپ مقام معظم رہبری سید علی خامنہ ای کے معتمد خاص ہیں، اور آج کل اہل بیت عالمی اسمبلی کے سربراہ کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
اسلام ٹائمز: مجمع جہانی اہل بیت کے چیدہ چیدہ اہداف کیا ہیں۔؟
آیت اللہ شیخ محمد حسن اختری: قرآن اور معارف اسلام کو نشر کرنا، مسلمانوں کی حمایت اور پشتیبانی کرنا، اور اسی طرح پیروان اہل بیت علیہم السلام کی حمایت اور پشتیبانی کے لئے مجمع اہل بیت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اسی طرح اسلام اور مسلمانوں کے دفاع اور پیروان اہل بیت علیہم السلام کے دفاع کو بھی مجمع کے اہداف میں شامل کیا گیا۔ مجمع اہل بیت اتحاد بین المسلمین اور مختلف مذاہب کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کے فروغ کے لئے بھی سرگرم رہتا ہے۔ جیسا کہ امام خمینی (رہ) اور امام خامنہ ای کا بھی یہ ہی فرمان ہے۔ اسی طرح وہ نادان لوگ جو قرآن، اسلام، پیامبر اسلام (ص) اور مکتب اہل بیت (ع) پر تہمت لگاتے ہیں، مجمع اہل بیت کوشش کرتا ہے کہ قرآن، اسلام اور پیامبر (ص) کا دفاع کرتے ہوئے ان لوگوں کے شبہات کا جواب دے۔ اسلام صحیح و قرآنی کو لوگوں تک پہنچائے۔ پیروان اہل بیت دنیا میں جہاں بھی آباد ہیں، ان کی حمایت کی جائے، اور حتی المقدور ان کے لئے مساجد، امام بارگاہ اور کتب خانے تعمیر کرائے جائیں۔
اسلام ٹائمز: عالم اسلام کے ایک ذمہ دار کی حیثیت سے آپ پاکستان میں رونما ہونیوالے واقعات کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
آیت اللہ شیخ محمد حسن اختری: ہم پاکستان کو ایک مضبوط اور طاقتور ملک سمجھتے ہیں، اسی طرح پاکستانیوں اور پاکستانی قوم کو متمدن اور طاقتور قوم سمجھتے ہیں۔ یہ حکومت اور یہ ملت جہان اسلام میں اہم ترین کردار ادا کرتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ حکومت اور ملت ِپاکستان اتحاد بین المسلمین اور اسی طرح مسلمانوں کی حیثیت کو دنیا میں برقرار رکھنے کے لئے ثابت قدم رہے، اسلام اور قرآن کے ساتھ اور مسلمان ممالک کے ساتھ جو مخاصمت جاری ہے، اس کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھائے۔
اسلام ٹائمز: عالمی سطح پر رونما ہونیوالی تبدیلیوں خصوصاً یمن، بحرین، شام اور عراق میں بیداری اسلامی کی لہر پر کیا تبصرہ کریں گے۔؟
آیت اللہ شیخ محمد حسن اختری: یہ بیداری اسلامی کی لہر ہے جو الحمدللہ دنیا بھر میں پھیل رہی ہے۔ امام خمینی (رہ) کی سرپرستی میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد دنیا میں اسلام نے ترقی کی۔ بہت سارے ممالک میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ غیر مسلم اسلام کی طرف آرہے ہیں اور خود مسلمان بھی جس غفلت میں مبتلا تھے، جس سستی کا شکار تھے، آج ان میں ہوشیاری و بیداری پیدا ہوئی ہے، مسلمانوں کی کوشش ہے کہ ہر ملک میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کریں، یہ امام خمینی (رہ) کی عظیم فکر اور دور اندیشی کا نتیجہ ہے۔ انقلاب اسلامی ایران کے بعد مسلمانوں نے جانا کہ اسلامی حکومت موجود ہے اور دین اسلام انسانوں کی رہنمائی اور ان پر حکومت کرسکتا ہے۔ اسلام دشمن طاقتیں کوشش کر رہی ہیں کہ بیداری اسلامی کو منحرف کریں، اور بعض ممالک میں وہ کامیاب بھی ہوگئے۔ البتہ بعض ممالک مثلاً عراق میں شیعہ سنی ملکر اسلامی حکومت چلا رہے ہیں اور اسی طرح یمن میں بھی مسلمان کوشش کر رہے ہیں کہ اپنا مقام حاصل کریں۔ شام و لبنان میں خط مقاومت نے جگہ بنالی ہے۔ اگرچہ امریکہ و اسرائیل نے بڑی کوشش کی کہ جبھہ مقاومت کو کمزور اور ختم کرے، لیکن الحمدللہ نہ کرسکے۔ بشار الاسد کی حکومت ابھی تک کامیاب رہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط تر ہو رہی ہے۔
اسلام ٹائمز: داعش کی برصغیر میں آمد بارے خبروں پر آپ کیا نقطہ نظر رکھتے ہیں۔؟
آیت اللہ شیخ محمد حسن اختری: داعش دہشت گردوں کا ایک مجموعہ ہے۔ امریکہ اور اسرائیل ان دہشت گردوں کو اسلحہ فراہم کرتے ہیں۔ یہ استعمار کے مزدور ہیں۔ شیعہ اور سنی کے درمیان وحشت پھیلاتے ہیں۔ ان سے قبل کئی اور بھی ایسے گروہ تشکیل دیئے گئے۔ البتہ آج کل مختلف ممالک جن میں سعودی عرب بھی شامل ہے، کے سنی علماء نے فتاویٰ دیئے ہیں کہ یہ مسلمان نہیں ہیں، اسی طرح پاکستان اور ملائیشیا جیسے ممالک میں بھی فتوے دیئے گئے کہ یہ لوگ مسلمان نہیں بلکہ خوارج ہیں۔ لوگوں کو بھی ہوشیار رہنا چاہیے کہ ہر ایک کے پیچھے نہ دوڑیں بلکہ ہمیشہ صالح اور دیندار لوگوں کا ساتھ دیں۔
اسلام ٹائمز: مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے آپکا موقف کیا ہے۔؟
آیت اللہ شیخ محمد حسن اختری: کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق کیا جائے۔ کشمیری جو چاہتے ہیں وہ ہونا چاہیے اور ہم ان لوگوں کی حمایت کرتے ہیں۔ کشمیری لوگ ہی اپنے ملک کے امور کو چلائیں اور انتخاب کرائیں۔
.......
/169