اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب اقوام متحدہ نے یمن میں گزشتہ مذاکرات کی بنیاد پر ایک سیاسی سمجھوتے تک پہنچنے کے امکان کو بعید قرار نہیں دیا ہے، اس ملک کی سیاسی جماعتوں کے نمائندے تمام جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل صدارتی کونسل کی تشکیل کے لیے آمادہ ہو رہے ہیں تاکہ ملک کا انتظام اس کونسل کے حوالے کیا جا سکے-یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن کے حالات کا جائزہ لیا ہے لیکن یہ اجلاس کسی مؤثر نتیجے پر نہیں پہنچ سکا- سلامتی کونسل کے پندرہ ارکان نے اس اجلاس میں یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جمال بن عمر کی باتیں سنیں جو یمن کے دارالحکومت صنعا میں اپنی رہائش گاہ سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے- جمال بن عمر نے سلامتی کونسل کے ارکان کو یمن کی تازہ ترین سیاسی اور انسانی حقوق کی صورت حال اور اسی طرح اس ملک کے سیاسی تعطل کو دور کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں بتایا- انہوں نے سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ یمن تباہی کے دہانے پر ہے، کہا کہ شدید جھڑپیں دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ ہر لمحے موجود ہے- دریں اثنا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایک بیان میں یمن کے حالات مزید پیچیدہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے اپیل کہ وہ مذاکرات کا راستہ جاری رکھیں- دوسری جانب یمن میں سیاسی جماعتوں کے نمائندے ایک ایسی صدارتی کونسل کی تشکیل کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہو- جبکہ یمن کی انصاراللہ تحریک کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ انصار اللہ صدارتی کونسل کی تشکیل چاہتی ہے نہ کہ نیشنل سالویشن کی حکومت- انصاراللہ تحریک کے سیاسی دفتر کے سربراہ علی العماد نے نیشنل سالویشن کی حکومت کی تشکیل کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت جس چیز پر کام ہو رہا ہے وہ حوثیوں کی قیادت میں صدارتی کونسل کی تشکیل ہے- علی العماد نے اس بارے میں کہ کیا انصاراللہ تحریک کے سربراہ عبدالملک حوثی صدارتی کونسل کے سربراہ ہوں گے کہا کہ انصاراللہ تحریک کے سربراہ صدارتی کونسل کی سربراہی یا کسی بھی اور عہدے میں دلچسپی نہیں رکھتے- دوسری جانب یمن کی حکومت کے ساتھ انصار اللہ تحریک کے سمجھوتے پر کبھی بھی امریکہ اور سعودی عرب کے گلے نیچے نہيں اترے اور ان کے لئے کھٹکتے رہے اور ان دونوں ملکوں نے ہمیشہ ان کے راستے میں روڑے اٹکائے ہیں- امریکی حکام نے یمن کے عوام کے حقوق کے حصول اور اس ملک میں جمہوری نظام کی تشکیل پر مبنی یمنی عوام کے قیام کے مقاصد کو پورا کرنے کے سلسلے میں حوثیوں کی کوششوں کو بغاوت قرار دیتے ہوئے اس عوامی تحریک کے خلا ف منفی پروپیگنڈا بھی شروع کر رکھا ہے-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲