22 جنوری 2015 - 22:13
اسرائیلیوں پر خوف و ہراس طاری

صہیونی ریاست نے شام کے علاقے قنیطرہ میں حزب اللہ لبنان کے مجاہدین پر حملہ کر کے ان کو شہید کردیا ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق صہیونی ریاست نے شام کے علاقے قنیطرہ میں حزب اللہ لبنان کے مجاہدین پر حملہ کر کے ان کو شہید کردیا ۔ صہیونی ریاست کے حملے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسداران کا ایک کمانڈر محمد علی اللہ دادی بھی شہید ہوگيا ۔ جس کے بعد شام کے وزیر اطلاعات عمران زعبی نے اتوار کے دن المنار ٹی وی چنیل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ قنیطرہ پر اسرائیل کا حملہ کوئی اچانک ہونے والا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ حملہ دہشتگرد گروہوں کی حمایت کے تناظر میں کیا گيا اور یہ حملہ اس غاصب حکومت کی تشکیل سے شروع ہونے والے اس کے مظالم کا تسلسل بھی ہے۔ زعبی نے مزیدکہا کہ فرانس میں دہشتگردی کے خلاف نکالی جانے والی ریلی میں شرکت کرنے والے صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو معلوم ہونا چاہۓ کہ وہ شام ، لبنان اور فلسطین کے خلاف اقدامات انجام دینے کی وجہ سےخود ہی دہشتگردی کے نمائندہ ہیں۔ عمران زعبی نے کہا کہ جو لوگ شام ، اس کے اتحاد اور فوج کو ضرب لگانے کی کوشش کررہے ہیں وہ درحقیقت شام ، فلسطین اور عرب دنیا کےخلاف صیہونیوں کے منصوبے کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ کے نام اپنے پیغام میں حزب اللہ لبنان کے مجاہدین کی شہادتوں پر منتج ہونے والے صیہونی حکومت کے دہشتگردانہ حملے کی مذمت کی اور کہا کہ قنیطرہ شہر میں قدس کی غاصب صہیونی ریاست کے دہشتگردانہ حملے میں حزب اللہ کے مجاہدین کی شہادتوں سے ایک بار پھر یہ بات سامنے آگئی ہے کہ دہشتگرد گروہ اور قدس کی غاصب حکومت آپس میں ملے ہوئے ہیں اور ان کو مختلف میدانوں میں حزب اللہ کی قابل افتخار کامیابیاں ایک آنکھ نہیں بھاتی ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ علاء الدین بروجردی نے بھی سید حسن نصراللہ کے نام اپنے پیغام میں جنوبی شام میں صہیونی ریاست کے حملے کی مذمت کی ہے اور لبنان کی ملت اور حزب اللہ کو لبنانی مجاہدین کی شہادتوں کی تعزیت پیش کی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر اطلاعات محمود علوی نے کہا کہ جنوبی شام میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر اور حزب اللہ لبنان کے مجاہدین کی شہادت نے غاصب اسرائیل کے دہشت گرد چہرہ کو مزید آشکارہ کردیا ہے ۔ ایران کے وزیر اطلاعات محمود علوی نے جنوبی شام میں ایران کی سپاہ پاسدا ران انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیر محمد علی اللہ دادی اور حزب اللہ لبنان کے چند مجاہدین کی شہادت کی مناسبت پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ یہ لوگ کفر کے محاذ کے مقابلے اور شام کی مظلوم قوم اور حکومت کی تکفیری دہشتگردوں کے مقابلے میں مدد کے لئے اپنے مشاورتی فرائض انجام دے رہے تھے اس پیغام میں آیا ہے کہ ان مظلوم شہیدوں کا پاک خون صہیونی حکومت اور تکفیری گروہوں کے رابطہ کو بے نقاب کرنے کا باعث بنا ہے ۔ محمود علوی نے تاکید کے ساتھ کہا کہ تکفیری دہشت گرد اپنے آقاؤں کے حکم سے صہیونیوں کے فرمان پر کان دھرتے اور دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دیتے ہیں اور ان کے زیر تسلط تشہیراتی مشینریوں نے اسلام ہراسی کا پروپیگنڈا کررکھاہے ۔
واضح رہےکہ شام کے علاقے قنیطرہ پر صیہونی حکومت کا یہ حملہ
عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی ایک مثال ہے۔ صیہونی حکومت یورپی طاقتوں کی حمایت کی وجہ سے ہمیشہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتی رہتی ہے اور اسے عالمی اداروں سے جانب سے کسی سخت ایکشن کا خوف بھی لاحق نہیں ہوتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ ان عالمی اداروں پر امریکہ جیسی سامراجی طاقتوں کا تسلط ہے اور وہ ان اداروں کو ہمیشہ اپنےسامراجی مقاصد کے لۓ استعمال کرتا رہتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائيل کی جانب سے دوسرے کسی بھی ملک کی سرحدی اور فضائي خلاف ورزی کی صورت میں بھی اس ناجائز حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی ہے۔ لیکن بات اپنی جگہ پر مسلم ہے کہ صیہونی حکومت نے شام کے جنوبی علاقے قنیطرہ پر حملہ کر کے جہاں ایک طرف شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے وہیں حزب اللہ لبنان کے مجاہدین اور اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسدران انقلاب اسلامی کے کمانڈر کو شہید کر کے دہشتگردی کا بھی ارتکاب کیا ہے۔ اس کے باوجود عالمی اداروں کی جانب سے اس حکومت کے خلاف کچھ نہیں کیا گيا ہے حتی اس حکومت کو دہشتگرد بھی قرار نہیں دیا گيا ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے دو لفظوں پر مشتمل اپنے ایک پیغام میں اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی اپنی پناہ گاہیں آمادہ کرلیں۔بعض خبری ذرائع سید حسن نصر اللہ کےاسی دو کلمے کو اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ سے تعبیر کررہے ہیں۔ حزب اللہ لبنان کے پیغام کے بعد اسرائیلیوں پر شدید خوف و ہراس طاری ہوگیا ہے۔ جس کی بناء پر صہیونی حکومت کی سکورٹی کابینہ نےمنگل کے دن صبح ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔ اس اجلاس کا مقصد حزب اللہ کے کارواں پر اسرائیلی فوج کے ممکنہ حملوں کے نتائج کا جائزہ لینا تھا۔ اسرائیلی فوج شام اور لبنان کی سرحد پر الرٹ ہوچکی ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیلی حملے کے جواب ميں حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس حملے کا سخت اور دنداں شکن جواب مناسب وقت پر دیا جائے گا۔ حزب اللہ لبنان کےمجاہدین پر صہیونی ریاست کے حملے کی علل و اسباب کا جائزہ لیتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے رکن پارلیمنٹ وحید احمدی کا کہنا ہے کہ صیہونی حکومت کو حزب اللہ لبنان کی جانب سے توہین کا خوف لاحق ہے۔ وحید احمدی نے شام میں حزب اللہ لبنان کے پانچ مجاہدین اور ایک ایرانی کمانڈر کی شہادتوں پر منتج ہونے والے اسرائیل کے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ حزب اللہ وہ پہلی تنظیم ہے جس نے صیہونی حکومت کے مقابلے میں استقامت کی اور اس کی طاقت کا طلسم چکنا چور کردیا۔ وحید احمدی نے مزید کہا کہ صیہونی حکومت ان دنوں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ وہ بہت طاقتور ہے لیکن سب جانتے ہیں کہ صیہونی حکومت اپنی کمزوری کی وجہ سے مظالم و جرائم کا ارتکاب کررہی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے بریگيڈیر جنرل اللہ دادی اور حزب اللہ لبنان کے مجاہدین کی شہادتوں کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ صہیونی ریاست کا جنون آمیز اقدام، تکفیری دہشتگردوں کے ساتھ غاصب صیہونیوں کی یکسوئی کو ثابت کرنے کے علاوہ، علاقے کی قوموں کی استقامت کے مقابلے میں ان کی کمزوری کا آئینہ دار ہے- محمد جواد ظریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ ان اعلی مقام شہداء کا خون اطہر، حزب اللہ کی زیادہ سے زیادہ عزّت و سربلندی، مجاہدین کے عزم و ارادے اور ایمان کی مضبوطی اور جنگ کے میدان میں قابل افتخار کامیابی کا باعث بنے گا- واضح رہے کہ صہیونی حملے میں حزب اللہ کے مجاہدین کی شہادت کے بعد غاصب صہیونی سرزمین پر ہر طرف خوف و دہشت کا سماں ہے۔ اسرائیل کی تمام سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ ہیں اور حزب اللہ کی جانب سے جوابی کارروائی کے منتظر ہیں۔ فوج نے تمام تر چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔ حزب اللہ کے حملے کے خوف سے صہیونی شہری بھی پناہ گاہوں میں منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں اور اپنی راتیں پناہ گاہوں میں جاگ کر گذار رہے ہیں۔

.......

/169