اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عراق میں سرگرم بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف نام نہاد عالمی اتحاد کے حملوں پر حکومت عراق نے پہلی مرتبہ باضابطہ تنقید کرتے ہوئے ان حملوں کو غیر موثر اور ناکافی قرار دیا ہے۔
اس سلسلے میں عراقی وزیر اعظم کے دفتر کے ترجمان سعد الحدیثی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے امریکا کی قیادت میں بننے والے اتحاد کی جانب سے دیئے جانے والے اقدامات ، حکومت عراق کی مرضی و منشا کے مطابق نہيں ہیں ۔ سعدالحدیثی کا کہناہے کہ اس اتحاد میں شامل ممالک اور ان کی فوجی طاقت کے پیش نظر اس کے اقدامات قابل قبول نہیں ہیں۔ الحدیثی نے علاقے میں جاری دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت پر تاکید کی ۔
انہوں نے کہا کہ بغداد حکومت کی فوجی لحاظ سے مدد کے علاوہ عراقی فوج کی تربیت اور داعش سے وابستہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہوائي حملوں میں تیزی کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب صوبہ الانبار کی حفاظتی کمیٹی کے سربراہ حمید الہایس نے داعش کے خلاف اتحادی فوجوں کے حملوں کو انتہائي مضحکہ خیز قراردیا ہے۔
حمید الہا یس نے واضح طور پر کہا کہ امریکا کی قیادت میں بننے والا نام نہاد بین القوامی اتحاد ، داعش کو نابو کرنے کے بجائے اس دہشت گرد گروہ کی مدد کررہا ہے۔ داعش کے سلسلے میں امریکا اور نام نہاد بین الاقوامی اتحاد کی جانب سے منافقانہ روش اختیار کئے جانے کے پیش نظر عراقی پارلیمنٹ کے سربراہ سلیم الجبوری نے کہا ہے کہ صوبہ دیالہ میں مقامی قبائلی لشکر میں ہزاروں افراد کی شمولیت کے بعد مقامی قبائل کو فوج کے زیر نگرانی، داعش کے زیر قبضہ علاقوں کی آزادی کی کاروائيوں میں حصہ لینے کی اجازت دیدی گئي ہے.
.......
/169