28 اکتوبر 2014 - 07:30
عراق، اہم علاقے جرف الصخر پر فوج کا مکمل کنٹرول

عراقی فوج نے رضاکاروں کی مدد سے دارالحکومت بغداد سے ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع جرف الصخر کے آخری گڑھ کو بھی تكفيري دہشت گردوں کے وجود سے پاک کر دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراقی فوج نے پیر کو جرف الصخر میں داعش کے آخری گڑھ الفاضليہ علاقے سے بھی ان کا صفایا کر دیا ہے۔ عراقی مسلح فوج کی کمان کے ترجمان کے مطابق، الفاضليہ جرف الصخر کا آخری گڑھ ہ تھا جس سے داعش کے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا گیا۔ جرف الصخر، جنوبی عراق کے تیل کی دولت سے مالا مال صوبوں کو دارالحکومت بغداد سے جوڑتا ہے۔

عراقی حکام نے پیر کو کہا کہ فوج اہم قصبے جرف الصخر کو داعش سے آزاد کرنے اور اس کے زیادہ تر حصے کو اپنے کنٹرول میں لینے میں کامیاب ہو گئی ہے۔
مرکزی عراق میں بابل صوبے کے جرف الصخر میں بم دھماکے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔
عراق میں فوجی مہم کے ایک کمانڈر نے پیر کو المسلمه نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کی شمالی جرف الصخر کے الفارسيۃ علاقے میں رضاکار فورسز اور عام لوگوں کو نشانہ بنا کئے گئے کار بم کے حملے میں 7 افراد جاں بحق اور 17 دیگر زخمی ہو گئے۔
قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل کربلا کی مقامی کونسل کے صدر نسيف الخطابی نے شمالی عراق کے جرف الصخر میں عراقی فوج کی کامیابی پر داعش کے دہشت گردوں کی جانب سے ممکنہ رد عمل کی خبر دی اور کہا کی دہشت گردوں کے خلاف فوج کی وسیع کارروائی سے دہشت بوکھلا گئے ہیں اور وہ اسی کی تلافی کے لئے جوابی کارروائی کر رہے ہیں۔
دوسری طرف سنیچر کو ہی عراقی کرد ملیشیا نے کئی ہفتوں کی شدید لڑائی کے بعد شمالی قصبے زمر سمیت کئی نواحی گاؤں کو پھر سے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ مسلح فوج نے حمرين پہاڑی کے علاقے کے قریب واقع چار گاؤں کو تكفيري دہشت گردوں کے قبضے سے چھڑا لیا ہے۔ عراق میں فوج تقریبا چھ ماہ تكفيري دہشت گردوں سے لڑ رہی ہے۔

اس وقت شام اور عراق کے سرحدی علاقوں پر داعش کا قبضہ ہے۔ ان دہشت گردوں نے اپنے کنٹرول والے علاقوں میں مقامی اور غیر ملکی لوگوں کا سرقلم کرنے اور نسل کشی سمیت تمام غیر انسانی جرائم کئے ہیں جن سے انسانیت شرما جائے۔
.......

/169