20 اکتوبر 2014 - 13:04
یمن، الحوثی گروہ کی کامیابیوں سے بوکھلا گیا سعودی عرب

یمن کی تحریک انصار اللہ الحوثی کے انقلابیوں نے سعودی عرب کے ساتھ ملنے والی اس ملک کی شمالی سرحد کی ایک اہم کراسنگ پر کنٹرول کر لیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصار اللہ الحوثی نے الحجہ صوبے کی الطوال کراسنگ پر کنٹرول کر لیا۔ اسی طرح انہوں نے اسی صوبے کے واغہ علاقے پر بھی کنٹرول کر لیا ہے۔ سرحدی طوال كراسنگ پر بہت ٹریفک ہوتا ہے۔ یمن کے صنعا، زمر اور ساحلی شہر الحدیدہ پہلے ہی انصاراللہ کے انقلابیوں کے کنٹرول میں ہے۔ سعودی عرب سے ملنے والے سرحدی صوبے، الحجہ میں الطوال کی سرحدی گزرگاہ کو اپنے کنٹرول پر تحریک انصاراللہ کے قبضے سے سعودی عرب بوکھلا اٹھا ہے۔ واضح رہے کہ ان سرحدی علاقوں میں القاعدہ سے وابستہ گروہ، سعودی عرب کی حمایت کی بدولت دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

اس سے پہلےجمعے کو تحریک الحوثي کے انقلابیوں نے البیضہ صوبے کے اسٹرٹجک شہر رضا کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اس شہر پر القاعدہ کے دہشت گردوں کا تقریبا دو سال سے قبضہ تھا۔ یہ ایسی حالت میں ہے جب تحریک الحوثی اور القاعدہ کے دہشت گردوں کے درمیان اب صوبے میں تشدد ختم کرنے سے متعلق معاہدے کے باوجود اس علاقے میں جھڑپیں جاری رہنے کی رپورٹیں آ رہی ہیں۔

ستمبر میں تحریک انصاراللہ کے انقلابیوں نے اس ملک کے سابق ڈکٹیٹر عبداللہ صالح کے سوتیلے بھائی جنرل علی محسن الاحمر کی وفادار فوج سے چار دنوں تک لڑنے کے بعد دارالحکومت صنعا پر کنٹرول کر لیا تھا۔
دوسری جانب رہبر انقلاب کے سیاسی امور کے مشیر اور اسلامی بیداری کونسل کی جنرل اسمبلی کے سکریٹری جنرل علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ ایران، یمن میں انصار اللہ کی جائز جد جہد کی حمایت کرتا ہے۔ علی اکبر ولایتی نے ہفتے کے دن تہران میں یمن کے زیدی شیعوں کے عمائدین اور علماء کے ساتھ ملاقات میں اس بات کو بیان کرتے ہوئےکہا تھا کہ تحریک انصاراللہ نے یمن کی تاریخ میں ایک ایسی تبدیلی کا آغاز کردیا ہے جس کی اس سے پہلے کوئي مثال نہیں ملتی ہے۔ انہوں کہا کہ ایران ، انصاراللہ کی جد و جہد کو اسلامی بیداری کا نتیجہ سمجھتا ہے ۔
علی اکبر ولایتی نے اپنے حقوق کے حصول کے لئے یمنی عوام کی کامیابیوں کو گرانقدر قرار دیا اور کہا کہ یمن میں سنہ 2011 کے انقلاب کے مقاصد گزشتہ تین برسوں کے دوران حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ انصاراللہ نے تدبر سے کام لیتے ہوئے تمام مذاہب کے اتحاد کی سمت قدم اٹھایا اور اسلامی جمہوریہ ایران ان اقدام کی حمایت کرتا ہے۔
.......

/169