اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کے شہر کوبانی میں شدید جھڑپوں کی خبریں موصول ہورہی ہیں اور شامی کرد ملیشیا نے داعش کے ٹھکانوں پر حملے کیئے ہیں، ادھر امریکی صدر باراک اوباما نے داعش کے خلاف جنگ کو ایک دشوار اور سخت جنگ سے تعبیر کیا ہے۔
ہمارے ساتھی نے ہندوستان کے سینیئر صحافی جناب شکیل شمسی سے رابطہ قائم کر کے شام اور عراق میں دہشتگرد گروہ داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور داعش کے خلاف امریکہ کی سرکردگي میں عالمی اتحاد کے فضائی حملوں کے تناظر میں سوال کیا تو ان کا کہنا تھا۔
مصاحبہ سننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
سامعین شام اور عراق کے مختلف علاقوں میں داعش کے خلاف ان ملکوں کی عوامی فورسز اور فوج کی کارروائیاں جاری ہے اور کئی علاقوں میں شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔
عراق کے زراعت اور قدرتی ذرائع کے وزیر عبدالمجید ستار نے عراق کی بنیادی تنصیبات منجملہ ڈیموں، بجلی گھروں اور بدامنی والے علاقوں میں پانی کے ذخائر پر داعش کے قبضے کی کوششوں کی تائید اور تصدیق کے ساتھ کہا ہے کہ دہشتگرد گروہ داعش کے عناصر نے میدانی جنگ میں شکست کے بعد، حکومت اور عوام پر اپنے دباؤ کو بڑھانے کے لئے بنیادی تنصیبات پر کنٹرول کی پالیسی کو اپنی ترجیحات میں قرار دے رکھا ہے۔ داعش کے دہشتگردوں نے عراق کے صوبوں دیالہ ، الانبار اور صلاح الدین پر قبضے کے بعد ان صوبوں کے ڈیموں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے اور ان علاقو ں کی بجلی اور پانی کو منقطع کردیا ہے، جس کے سبب دسیوں ہزار عراقی نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔
مہاجرین کی عالمی تنظیم کہ جس کا ہیڈ کواٹر جنیوا میں ہے نے اپنی ایک رپورٹ میں شام اور عراق کے عوام کے خلاف داعش کے جرائم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، اعلان کیا ہے یہ عالمی ادارہ علاقے میں داعش کے جرائم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے، شام اور عراق کے پناہ گزینوں کی مشکلات کے حل کے لئے، عالمی برادری کی بھرپور حمایت کا خواہاں ہے۔
ادھر عراق کی وزارت تعلیم میں پروگرام مینجر نائف ثامر حسین نے اپنے ایک بیان میں، عراق کے مختلف علاقوں میں دہشتگرد گروہ داعش کے عناصر کے ہاتھوں دو ہزار سے زیادہ اسکول کو تباہ کیئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ داعش کی جانب سے اسکولوں، کالجوں، اور یونیورسٹیوں کو تباہ کیئے جانے کے جاری سلسلے نے عراق کے طالبعلموں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے، اور عملی طور پر عراق کے اسکول اور یونیورسٹی طالب علموں کی ایک بڑی تعداد حصول علم سے محروم ہوگی ہے، اور داعش کے دہشتگردوں نے اسکول اور کالجوں پر قبضے کے ساتھ ان مراکز کو اپنی دہشتگردانہ سرگرمیوں میں تبدیل کردیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دہشتگرد گروہ داعش نےاپنے غیر انسانی اور غیر منطقی اقدامات کے ذریعے شام اور عراق کے عوام کی زندگیوں کو خطرات سے دوچار کردیا ہے، اور داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں صرف جنگل کا قانون چل رہا ہے اور داعش گروہ کے عناصر کسی بھی سماجی اور انسانی اقدار کی پاسداری نہیں کررہے ہیں۔
شام اور عراق کی فوج نے داعش کے خلاف کافی کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن اصل بات یہ ہے کہ داعش گروہ کے لئے بعض ملکوں کی مالی اور لاجسٹک مدد و حمایت کا سلسلہ جاری ہے، اور بین الاقوامی حلقوں نے دہشتگرد گروہ داعش کی جانب سے بعض ملکوں کو تیل کی فروخت پر اپنی شدید تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔
شام اور عراق کی عوامی فورسز اور فوج داعش کے خلاف کارروائی کررہی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ، داعش کے لئے بعض ملکوں کی حمایت کو بھی فوری بند ہونا چاہیے۔
علاقائی امور کے ماہرین اور تجزیہ نگاروں نے یہ سوال اٹھائے ہیں کہ آخر کار داعش کو ہتھیار کون فراہم کرتا ہے، اس سلسلے میں کچھ رپورٹیں بھی سامنے آئی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی کمپنیاں داعش کو ہتھیار فراہم کررہی اور اور غاصب صہیونی حکومت کے ذریعے یہ جدید ترین ہتھیار داعش کے عناصر کے حوالے کیئے جاتے ہیں۔
میڈیا میں یہ خبریں بھی آئی ہیں کہ داعش کے عناصر کو علاج معالجے کے لئے، اسرائیل منتقل کیا جاتا ہے اور صہیونی اسپتالوں میں ان کو بہترین سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ علاقے میں داعش کو مضبوط کرنے میں امریکہ اور بعض عرب اور علاقائی ملکوں نے اہم کردار ادا کیا ہے، اور داعش کے خلاف عالمی اتحاد کی تشکیل صرف ایک ڈرامہ ہے جس کا مقصد بھی داعش کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
.......
/169