30 ستمبر 2014 - 12:41
صہیونی وزیر اعظم کی یاوہ سرائي

صہیونی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاھو نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس میں یاوہ سرائي کرتے ہوئے ایران کے خلاف الزامات لگانے کے بے اثر حربے سے کام لیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق صیہونی وزیر اعظم نے پیر کے دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات لگا کر اپنے ان جرائم کو چھپانے کی کوشش کی ہے جن کا ارتکاب قدس کی غاصب حکومت نے حال ہی میں فلسطینیوں کے خلاف کیا ہے۔ نیتن یاھو نے جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اپنے زعم میں ایران کی ایٹمی توانائيوں کودنیا کےلئے سب سے بڑا خطرہ قراردیا ہے اور کہا ہےکہ یہ خطرہ داعش سے کہیں بڑھ کر ہے۔ صیہونی وزیر اعظم نے بزعم خویش ایران کے ایٹمی پروگرام کا موازنہ داعش سے کیا ہے اور کہا ہےکہ داعش کو یقینا شکست دینا ہوگي لیکن داعش کو شکست دینا اور ایران کو چھوڑدینا جو کہ ایٹمی ملک بننے والا ہی ہے بہت کم فائدے کے لئے بہت زیادہ سرمایہ کاری کرنے کے معنی میں ہے۔ صیہونی وزیر اعظم نے اپنے خيال باطل میں ایک طنزیہ جملہ بھی کہا ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا آپ داعش کو یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں؟ اور کیا آپ داعش کو ہیوی واٹر ری ایکٹر رکھنے کی اجازت دے سکتے ہیں؟ صیہونی وزیر اعظم نے اپنی ہرزہ سرائی جاری رکھتے ہوئے الزام لگایا کہ ایران ایٹم بنانے کی کسی بھی صلاحیت کو ختم کئے بغیر اپنے ایٹمی پروگرام کے تعلق سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ قدس کی غاصب حکومت کے وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران کے صدر کی تقریر کا بھی مذاق اڑایا اور ایران پر دہشتگردی مین ملوث رہنے کے الزامات لگائے۔ نیتن یاھو نے دوسال قبل بھی جنرل اسمبلی میں جوکروں کی طرح کی حرکتیں کرتے ہوئے ایک بم کا کارٹون ہاتھ میں لے کر اپنے خیال میں ایران کے ایٹم بم کے خطرے سے دنیا والوں کو آگاہ کیا تھا۔ نیتن یاھو کی اس حرکت پر ساری دنیا نے ان کا مذاق اڑایا تھا۔ نیتن یاھو نے اس سال بھی جنرل اسمبلی میں حماس کے راکٹ لانچروں کی تصویریں دکھائیں جن کے قریب بچے کھیل رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان تصویروں سے ثابت ہوتا ہے کہ حماس عام شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ نیتن یاھو نے داعشی دہشتگردوں کے لئے عراق و شام میں جہادی فورسز کا لفظ استعمال کیا اور دعوی کیا کہ داعش حماس کے ساتھ مشترکہ آئيڈیالوجی کا حامل ہے۔ نیتن یاھو نے کہا کہ حماس اور داعش ایک ہی زہریلے درخت کی شاخ ہیں۔
صیہونی وزیر اعظم کے ان بیانات اور مثالوں سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ صیہونی حکومت بدستور اس بات سے امید لگائے بیٹھی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ناٹک بازی کرکے نفسیاتی جنگ شروع کرسکتی ہے تا کہ ایک تیر سے دونشانوں کو ھدف بناسکے یعنی ایران اور مسلمانوں کو داعش سے مربوط قراردے سکے۔ صیہونیوں کی ناجائز حیات میں اب تک انہوں نے مظلوم نمائي اور دھوکے بازی سے کام لیا ہے۔ صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نے بھی جو اس حکومت کے اہم مہروں میں شامل ہيں، ان ہتھکنڈوں سے استفادہ کرنے میں ان کے کارنامے بھی نہایت سیاہ ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ صیہونی حکومت جس کی پوری تاریخ تشدد، نسل پرستی، اور جنگي جرائم سے اٹی پڑی ہے اور وہ مشرق وسطی میں واحد حکومت ہے جس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں تو وہ کس بنیاد پر دوسروں کو بے شرمی سے مورد الزام ٹہراتی ہے۔ صیہونی حکومت نے بارہا لبنان اور غزہ کے خلاف فاسفورس، کیمیائي اور جراثیمی ہتھیار استعمال کئے ہیں لیکن اس کے باوجود دوسروں پر اس طرح کے ہتھیار حاصل کرنے کے الزامات لگاتی ہے۔ واضح رہے صیہونی حکومت کے پاس ایٹمی ہتھیار بھی ہیں جس نے فلسطینیوں پر ہرممکنہ ظلم ڈھایا ہے۔ نیتن یاھو کی کوششیں اس کیڑے کی کوششوں کی طرح ہیں جو اپنے خول سے باہر آنے کی کوشش کررہا ہے اور جب باہر آتا ہے تو نئي دنیا کو دیکھتا ہے جو اس کے خول کی طرح تاریک اور بند نہیں ہے بلکہ ساری دنیا اسے دیکھ رہی ہے اور اسکی حقیقت کو پہچانتی ہے ۔ نیتن یاھو اب یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ وہ اکیسویں صدی میں زندگي گذار رہے ہیں اور مشرق وسطی میں رہتے ہیں جہاں کی قومیں اسلامی بیداری سے گذررہی ہیں۔ ان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی دنگااور ناٹک کرنے کی جگہ نہیں ہے اور اسی جنرل اسمبلی میں صیہونی حکومت کے خلاف بہت سی باتیں کی جائيں گي اور صیہونی حکام جھوٹے پروپگينڈوں اور ایرانوفوبیا سے ملت مظلوم فلسطین کی مزاحمت پر سوالیہ نشان نہیں لگاسکتے۔

.......

/169