29 ستمبر 2014 - 19:08
الحاج حسن حبیب السلمان کون تھے؟

یہ وہ شخصیت تھی جنہیں جرائت کے ساتھ نیکوکاری کا نمونہ، یتیموں کا باپ اور اعمال خیر کا رہبر کہا جا سکتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مرحوم ’’الحاج حسن حبیب السلمان‘‘ کویت کے ان عظیم المرتبت شیعوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی عمر کے چالیس سال دنیا کے گوشے گوشے میں تعلیمات اہلبیت(ع) کی نشر و اشاعت، یتیموں کی سرپرستی اور دیگر بے شمار کارہائے خیر انجام دینے میں گزار دئے۔
یہ وہ شخصیت تھی جنہیں جرائت کے ساتھ نیکوکاری کا نمونہ، یتیموں کا باپ اور اعمال خیر کا رہبر کہا جا سکتا ہے۔
دنیا کے گوشے گوشے میں امور خیریہ کی انجام دہی
مرحوم جناب حسن حبیب کی خدمات کا دائرہ صرف کویت میں محدود نہیں تھا بلکہ دنیا کے کونے کونے منجملہ ایران، لبنان اور عراق میں دار الایتام، مدارس، مساجد اور حوزہ ہائے علمیہ کی تعمیر ان کی خدمات کا آشکارا نمونہ ہیں۔ آپ ہزاروں یتیموں کا سہارا، سیکڑوں فقیروں کے دستگیر اور دسیوں نیاز مندوں کے حاجت روا تھے۔
موصوف اپنی زندگی کے آخری لمحے تک امور خیریہ انجام دینے سے نہیں تھکے بلکہ کہولت سن اور بیماری کے عالم میں بھی پورے ذوق و شوق کے ساتھ جوانوں اور نوجوانوں کے درمیان حاضر ہوتے، یتیموں کے سروں پر ہاتھ پھیرتے، ضرورتمندوں کی ضرورتوں کو پورا کرتے، مسکینوں کے لیے خوراک فراہم کرتے، لوگوں کے لیے مذہبی مقامات تعمیر کرواتے اور غریب گھرانوں میں ہونے والی شادیوں کے اخراجات برداشت کرتے اور نوبیاہ لڑکیوں کے لیے جہیز فراہم کرتے تھے۔
جنوبی افریقہ کے بعض گھرانوں کو آپ سے اس قدر محبت تھی کہ انہوں نے اپنے بچوں کے نام ’’حسن حبیب سلمان‘‘ کے نام پر رکھ دئے۔
کویت کی اقتصادی بالیدگی میں شراکت
الحاج حسن حبیب نے اپنے ملک کویت میں بھی بے نظیر خدمات انجام دی۔ ۱۹۸۰ میں آپ اس ملک کی ’’ المجلس البلدی‘‘ کے رکن تھے لہذا اس عنوان سے آپ نے کویت کے سماج میں اسلامی شعور پیدا کرنے، لوگوں میں بیداری لانے اور تعمیراتی کام انجام دینے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔
خوبصورت اخلاق
موصوف اس کے باوجود کہ ان گنت امور خیریہ انجام دینے میں پیشقدم تھے انتہائی متواضع اور دوسروں سے محبت کرنے والے تھے۔
اس عظیم شخصیت کو کوئی نہیں پہچانتا تھا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی شخصیت لوگوں کے سامنے آئی ہے وہ اس سن اور بیماری کے عالم میں بھی بہت انکساری کے ساتھ اپنے دفتر میں بیٹھتے تھےاور رجوع کرنے والے ہر شخص سے ملتے تھے پوری دلگرمی کے ساتھ گفتگو کرتے تھے، ریاکاری اور شہرت نام کی کوئی چیز ان کے اندر نظر نہیں آتی تھی ان کے پاس بیٹھنا ہی ایک درس اخلاق کے برابر تھا۔
الباقیات الصالحات کے اعداد و شمار
اگر چہ موصوف نے ریاکاری اور شہرت سے بچنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے انجام دیئے ہوئے امور خیریہ سے متعلق کسی کو آگاہ نہیں کیا لیکن ان کے دفتر کے کارکنان نے اندازے کے طور پر ان کے کاموں کے درج ذیل اعداد و شمار پیش کئے ہیں:
۳۰ ہزار یتیموں کی سرپرستی
۴۶۰ مساجد کی تعمیر
۳۰ ہسپتالوں کی تعمیر
۲۴۰ مدارس اور حوزہ ہائے علمیہ کی تاسیس
یتیموں کے لیے ۳۵۰ رہائش گاہوں کی تعمیر
مختلف زبانوں میں ۱۲۰ کتابوں کی اشاعت
۱۲۰۰ قرآنی معلمین کی سرپرستی
مرحوم حسن حبیب رہبر معظم انقلاب کے کویت میں شرعی وکیل بھی تھے ۔
رحلت
موصوف کے یہاں کوئی اولاد نہیں تھی۔ گزشتہ ہفتے بروز پیر کو کویت کے ایک ہسپتال میں دل کا آپریشن ناکام ہو جانے کی وجہ سے کویت کی یہ عظیم شخصیت اس دنیا سے چل بسی۔ خداوند عالم انہیں ان کے خوبصورت کاموں کا خوبصورت اجر و ثواب دے۔

ترجمہ: الف۔ع۔ جعفری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲