اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی قومی سلامتی ایجنسی کے سابق جاسوس سنوڈن کو 2014 کا لائیولی ہڈ ایوارڈ دینے کا اعلان کيا گيا، جسے نوبل کا متبادل بھی کہا جاتا ہے، سنوڈن کے ساتھ ہی جاسوسی کے انکشافات پر مبنی دستاویزات چھاپنے والے برطانوی اخبار 'گارڈین' کے مدیر اعلیٰ ایلن سربریجر کو بھی اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا ہے۔
دو لاکھ دس ہزار ڈالر کے اس نقد انعام کے لیے پاکستان کی انسانی حقوق کی کارکن اسمہ جہانگیر کو بھی نامزد کیا گيا ہے۔
خیال رہے کہ رائٹ لائیولی ہڈ ایوارڈ کا آغاز 1980 میں کیا گیا تھا جس کا مقصد ایسے لوگوں کی مدد اور ان کی خدمات کا اعتراف کرنا تھا جو دورِ حاضر کے اہم ترین مسائل کا مثالی اور عملی حل پیش کریں۔
لائیولی ہڈ فاؤنڈیشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن کو یہ ایوارڈ جاسوسی کے ایسے ریاستی منصوبوں کا بہادری اور مہارت سے پردہ چاک کرنے پر دیا جارہا ہے جو بنیادی جمہوری رویوں اور آئینی حقوق کے سراسر منافی ہیں۔
فاؤنڈیشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایڈورڈ سنوڈن کی قانونی معاونت اور مقدمات کی پیروی پر اٹھنے والے تمام اخراجات بھی برداشت کرے گی۔
خیال رہے کہ ایڈورڈ سنوڈن گزشتہ برس مبینہ طور پر امریکی جاسوسی ایجنسی کے تقریبا 17 لاکھ کمپیوٹرائزڈ دستاویزات لے کر پہلے ہانگ کانگ اور پھر روس فرار ہوگئے تھے۔
ان دستاویزات میں سے بعض کو 'گارڈین' اور دیگر اخبارات نے شائع کیا تھا جن سے مختلف ملکوں، حکومتوں اور خود امریکی عوام کے ٹیلی فون ریکارڈ، ای میلز اور انٹرنیٹ کی جاسوسی سے متعلق امریکی خفیہ اداروں کے جاری منصوبوں کا راز فاش ہوگیا تھا۔
سنوڈن کے انکشافات پر امریکہ کو دنیا بھر میں خفت اٹھانا پڑی تھی اور کئی حکومتوں اور عالمی رہنماؤں نے جاسوسی کی ان کارروائیوں پر امریکی حکام سے احتجاج کیا تھا اور وضاحت طلب کی تھی۔
.......
/169