اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریۂ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت اور گروپ پانچ جمع ایک کےساتھ ایٹمی مذاکرات جاری رکھنے کی غرض سے نیویارک کے دورے پر ہیں۔ محمد جواد ظریف نے بدھ کے روز نیویارک میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس امر کے پیش نظر کہ اختلافی مسائل قابل توجہ ہیں اور ایک ایسی راہ حل تک رسائی کے لئے، جوقابل قبول ہو، وقت کم ہے اس لئے ضرورت تھی کہ ایشٹن کے ساتھ ملاقات میں ان روشوں کا جائزہ لیا جائے جو مسائل کے حل میں نتیجہ خیز ثابت ہوسکيں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ شاید جمعہ کے دن ڈائریکٹروں کی سطح پرگروپ پانچ جمع ایک کا اجلاس منعقد ہو۔ اس وقت تمام نظریں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے ساتویں دور کے ایٹمی مذاکرات پر ٹکی ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان اہم اختلافی مسائل میں ایران میں یورینئم کی افزودگی کی سطح اور سینٹری فیوجز کی تعداد نیز پابندیوں کا خاتمہ شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ اختلافات کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچنے کے لئے 24 نومبر تک دی گئی مہلت میں حل ہو جائیں گے اور اگر حل نہ ہوئے تو اس صورت ميں کیا ہوگا؟
بعض مبصرین کے نقطۂ نگاہ سے اس مسئلے کا حل جوہری توانائي کی عالمی ایجنسی سے مربوط ہے۔ لیکن مسئلہ صرف تکنیکی نہیں ہے بلکہ یورنیم کی افزودگي اور پابندیاں باقی رکھنے کے سلسلے میں امریکہ کا غیر روایتی اور ہٹ دھرمی پر مبنی موقف ہی مشکل کی اصلی جڑ ہے۔ اس وقت امریکی کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے بعض اراکین، ایران کے خلاف عائد پابندیوں کو اٹھانے کے لئے مختلف قسم کی شرائط پیش کر رہے ہیں کہ جن پر عمل درآمد ایٹمی حقوق میں ایران کی ریڈ لائن عبور کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن اگر منطقی نقطہ نگاہ سے اس کا جائزہ لیا جائے تو ایران کے ایٹمی مسئلے کے پرامن ہونے کے بارے میں اعتماد سازی پر مبنی اتفاق رائے کا حصول کوئی پیچیدہ کام نہیں ہے۔ 24 نومبر 2013 میں جنیوا سمجھوتے کے بعد انجام پانے والے چھ دور کے مذاکرات میں اب تک مشترکہ اقدام کے تناظر میں بہت اہم قدم اٹھائے گئے ہیں چنانچہ ایران نے ایٹمی پروگرام کو شفاف بنانے کی تدابیر قبول کر لی ہیں اور رضا کارانہ طور پر یورینئم کی افزودگی کی سطح میں کمی کی ہے۔ اسی طرح اراک کے بھاری پانی کے ری ایکٹر کی تنصیبات کی سرگرمیوں کے بارے میں اعتماد بحال کیا ہے اور ماہرین کے اندازوں کی بنیاد پر اپنی حسب ضرورت سینٹری فیوجز مشینوں کی تعداد کے بارے میں آئی اے ای اے کو مطلع کر دیا ہے۔ ان اقدامات نے آئی اے ای اےکے ساتھ ایران کے تکنیکی معاملات اور تعاون کے سلسلے میں کوئی بہانہ باقی نہیں چھوڑا ہے لیکن اس بےبنیاد وہم و خیال کا بدستور اعادہ کیا جارہا ہے کہ ایران ممکن ہے ایٹمی ہتھیاروں کی سمت پیشقدمی کرے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ اسلامی جمہوریۂ ایران نے اعلی ترین سطح پر رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال کے حرام ہونے کا فتوی دیا ہے اور ایرانی حکام کے سرکاری موقف اور ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں آئی اے ای اے کی متعدد رپورٹیں اسی مسئلے کی تائید کرتی ہیں۔ لیکن امریکی رویہ اعتماد سازی کے برخلاف ہے جیسا کہ ایران کے وزیرخارجہ نے نیویارک میں کہا ہے کہ امریکی حکام کی سوئي پابندیوں پر اڑ گئی ہیں اور اب پابندیاں خود ہدف اور مقصد میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ جبکہ اعتماد سازی اور کسی حتمی سمجھوتے تک رسائی کے لئے ضروری ہے کہ پابندیاں اٹھا لی جائیں۔ یہی سبب ہے کہ ظریف نے نیویارک میں کیتھرین ایشٹن کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ہمارے کسی نتیجے تک پہنچنے کا مسئلہ اس بات پر منحصر ہے کہ فریق مقابل کس حد تک راہ حل تک پہنچنے کے لئے ٹھوس سیاسی فیصلہ کرنے کی آمادگي رکھتاہے۔
.....
/169