اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق باغیوں اور یوکرین حکومت کے درمیان ہوئے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت یہ رہائی ہوئی ہے جس میں قیدیوں کے تبادلے پر بھی موافقت ہوئی تھی۔
صدر پوروشیكوو نے یہ بات اسٹریٹجک طور پر اہم شہر مارپول کے دورے پر کہی۔
پوروشینكو نے ٹویٹ کر اپنے مارپول دورے کی اطلاع دی۔ انہوں نے لکھا کہ مارپول يوكرین کا حصہ ہے۔ اس زمین کو کسی کو نہیں دیں گے۔ حالیہ دنوں میں اس شہر میں بھی روس نواز باغیوں اور فوجیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔
جنگ بندی کے نفاذ سے پہلے باغیوں نے مشرقی یوکرین میں کافی کامیابی حاصل کی اور وہ مارپول سے کچھ ہی میل دور رہ گئے تھے۔
جنگ بندی کا نفاذ تو ہو گیا ہے تاہم حکومت اور مخالفین ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ مشرقی یوکرین میں اپریل سے جاری جدوجہد میں اب تک تقریبا 2600 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
.......
/169