ابنا: نیٹو تنظیم کے رکن ممالک کا دو روزہ اجلاس چار اور پانچ ستمبر کو ویلز میں بلایا جارہا ہے جس میں نیٹو کے رکن اٹھائیس ممالک سمیت دنیا کے ساٹھ سے زیادہ ممالک کے سربراہ شریک ہوں گے۔ اس اجلاس میں مختلف مسائل کے بارے میں تبادلۂ خیال اور فیصلے کۓ جائیں گے۔ جن موضوعات کا اس اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا ان میں یوکرین اور عراق کے بحرانوں اور افغانستان میں نیٹو کے مستقبل کی جانب اشارہ کیا جاسکتا ہے۔ ایسا نظر آتا ہےکہ اس اجلاس میں یوکرین کے بحران ، مشرقی علاقے تک اس بحران کے پھیلنے اور اس علاقے میں روس کی مداخلت جیسے مسائل کو ترجیح حاصل ہو گي۔ اس اجلاس میں یوکرین کے وفد کی سربراہی اس ملک کے صدر پٹروپوروشنکو کر رہے ہیں۔ اس اجلاس میں یوکرین کے بارے میں اہم فیصلے کۓ جائیں گے جن میں یوکرین کی فوج کا لیس کیا جانا اور مشرقی یورپ خصوصا یوکرین میں روس کی فوج کے پھیلاؤ سے مقابلے کی نوعیت کے بارے میں فیصلے شامل ہوں گے۔ حالیہ دنوں میں اس بارے میں نیٹو کی جانب سے بعض اہم فیصلوں کا اعلان کیا گيا ہے۔ جن میں روس سے مقابلے کے لۓ مشرقی یورپ کے ممالک میں پانچ فوجی اڈے قائم کیا جانا بھی شامل ہے۔ اس اہم اجلاس میں زیر بحث لایا جانے والا ایک اور موضوع عراق اور شام میں تیزی سے پھیلتا ہوا داعش کا خطرہ بھی شامل ہے۔ دہشتگرد گروہ داعش کے ہاتھوں دوسرے امریکی صحافی کا سر قلم کۓ جانے کے بعد اس مسئلے پر زیادہ توجہ دی جانے لگی ہے۔ ایک اور مسئلہ جس کا نیٹو کے اس اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا وہ افغانستان میں نیٹو کی موجودگی کے مستقبل سے تعلق رکھتا ہے۔ ویلز اجلاس میں سنہ دو ہزار چودہ کے بعد افغانستان میں نیٹو کے فوجیوں کی موجودگي کے بارے میں تبادلۂ خیال اور منصوبہ بندی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ اینڈرس فوگ راسموسن (Anders Fogh Rasmussen) کی صدارت میں یہ نیٹو کا آخری اجلاس ہوگا۔ اینڈرس فوگ راسموسن سنہ دو ہزار نو سے اس تنظیم کے سربراہ ہیں اور ناروے کے سابق وزیر اعظم ینس اسٹولٹنبرگ یکم اکتوبر سے نیٹو کی سربراہی کا عہدہ سنبھالیں گے۔ ایسا نظر آتا ہےکہ نیٹو کو اپنی تشکیل کے پینسٹھویں سال میں شدید اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اندرونی چیلنجوں میں اس تنظیم کے یورپی رکن ممالک کے دفاعی بجٹ میں کمی کا مسئلہ زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ نیٹو کے قوانین کے مطابق ہر رکن ملک کو اپنی جی ڈی پی کا دو فیصد حصہ اپنے فوجی بجٹ کے لۓ مختص کرنا چاہۓ لیکن حالیہ برسوں کے دوران اقتصادی بحران کے باعث نیٹو کے رکن یورپی ممالک نے اس سے کمتر رقم دفاعی اور فوجی بحٹ کے لۓ مختص کی۔ جس کو اینڈرس فوگ راسموسن نے خاص طور پر یوکرین کے بحران میں شدت پیدا ہونے کے بعد اپنی تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ لیکن ان ممالک کو نیٹو کے معیار پر پورا اترنے کے لۓ ابھی طویل سفر طے کرنا ہوگا ۔ دوسری جانب نیٹو کو جن بیرونی چیلنچز کا سامنا ہے ان میں مشرقی یورپ خصوصا یوکرین میں روس کے اقدامات کا مقابلہ شامل ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ نیٹو کے اجلاس میں اس سلسلے میں بعض اہم فیصلے کۓ جائيں گے۔
.......
/169