اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین میں آل خلیفہ کی حکومت اس ملک کی سیاسی قیدیوں کوشکنجے دینے کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کر رہی ہے جس پر بحرینی قیدیوں نے سخت احتجاج کیا ہے۔ اور بحرین کی الحوض الجاف جیل کے 600 قیدیوں نے جیل حکام کے غیر انسانی سلوک، شکنجے دینے اور ٹارچر کرنے کےخلاف گذشتہ 10روز سے بھوک ہڑتال کیا ہے۔ اور اس بھوک ہڑتال کی وجہ سے کئی بھوک ہڑتالی قیدیوں کی حالت تشویشناک ہو گئی ہے۔ لیکن جیل کے حکام ان قیدیوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی پرواہ کئے بغیر انہیں کئی روز سے بیرکوں میں بند رکھے ہوئے ہیں ۔ جبکہ بعض اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بحرین کی الحوض الجاف جیل میں آل خلیفہ کے آلہ کاروں نے بھوک ہڑتالی قیدیوں پر تشدد بھی کیا جس پر بحرین کے سیاسی رہنماوں نے سخت ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ بحرین کی جمیعت الوفاق نے الحوض الجاف جیل میں قیدیوں کی صورتحال اور جیل انتظامیہ کے رویے پر سخت ردعمل دکھاتے ہوئے کہا کہ جیل کے اندر قیدیوں پر حملہ آل خلیفہ کی وحشی پن کا آئینہ دار ہے جو جمہوریت اور آزادی کے خواہاں لوگوں کی آواز کو دھونس، دھمکی اور ظلم و جبر سے دبانا چاہتا ہے۔
آل خلیفہ کی جانب سے قیدیوں پر تشدد کے حوالے سے تشویشنا ک پہلو یہ ہے کہ حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شریک خواتین کی بھی گرفتاریاں عمل میں آئیں اور جیل میں ان کو بھی شکنجے دینے کے ساتھ ساتھ انھیں جنسی تشدد کا بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جس کا انسانی حقوق کی تنظیم نے بھی اعتراف کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنے حالیہ بیان میں بحرین کی جیلوں میں خواتین قیدیوں کو شکنجے دینے کے ساتھ ساتھ انھیں جنسی تشدد کا نشانہ بنانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی تنظیم نے بھی آل خلیفہ سے کہا کہ وہ بحرین کی جیلوں میں قیدیوں کی، ابتر صورتحال کا جائزہ لیں۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم کا بیان ایسے میں سامنے آیا ہے کہ انسانی حقوق کی 11 دیگر تنظیموں من جملہ خلیج کی انسانی حقوق کے مرکز، بحرین کی انسانی حقوق کی تنظیم، انسانی حقوق کی مدافع ڈاکٹروں کی تنظیم اورمنصفانہ مقدمات چلانے کی تنظیم نے بحرین کی جیلوں میں قیدیوں کے نفسیاتی اور صحت عامہ سے متعلق امور کو بہتر بنانے اور صاف و شفاف طریقے سے کیس چلانے کا مطالبہ کیا۔
درایں اثنا انسانی حقوق کی کمپین چلانے والے سرگرم اراکین نے بھی بحرین کی سیاسی قیدیوں کی حمایت کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اعلان کیا۔
بحرین میں2011 میں آل خلیفہ کے خلاف عوامی تحریک کے آغاز کے وقت سے ہی امن و امان کا بہانہ بنا کر آل خلیفہ نے ہزاروں مظاہرین کو گرفتار کیا جو اب تک جیلوں میں مختلف قسم کی صعوبتیں برداشت کر رہی ہیں۔ جن میں اس ملک کی اہم سیاسی اور مذھبی شخصیات کے ساتھ ساتھ بحرین کی انسانی حقوق کی تنظیم کے سابق صدراورسرگرم عبدالھادی عبداللہ حبیل الخواجہ بھی ہیں جو اس وقت جیل میں ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے اور بحرین کی انسانی حقوق کی چار تنظیموں نے ان کی اور تمام قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
.......
/169