12 اگست 2014 - 14:32
عراق کے نئے وزیر اعظم کون ہیں؟+ تصاویر

عراق کے صدر جمہوریہ ’’فواد معصوم‘‘ نے ’’حیدر العبادی‘‘ کو دستور دیا کہ وہ حزب الدعوہ اور دولۃ القانون کے رہنماوں سے مل کر عراق میں نئی حکومت تشکیل دیں

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق کے صدر جمہوریہ ’’فواد معصوم‘‘ نے گزشتہ روز ’’حیدر العبادی‘‘ کو مامور کیا کہ وہ حزب الدعوہ اور دولۃ القانون کے رہنماوں سے مل کر عراق میں نئی کابینہ تشکیل دیں۔

عراق کے صدر نے اس ملک کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر حیدر العبادی کو عراق کی نئی کابینہ کی تشکیل پر مامور کیا ہے۔ عراق کے نیشنل الائنس نے پیر کے دن اس الائنس کے ایک رہنما اور حکومت قانون الائنس کے سرکردہ رکن کو وزیراعظم کے منصب کے لئے نامرذ کیا ہے۔

حیدر العبادی کا مختصر زندگی نامہ

حیدر العبادی 1952 میں عراق کے دار الحکومت بغداد میں پیدا ہوئے انہوں نے سن 1975 میں بغداد یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور 1981 میں انگلینڈ کی مانچسٹر یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کیا۔
العبادی قرآنی علوم میں بھی خاص دلچسپی رکھتے ہیں انہوں نے قرآنی علوم میں ’’ المختصر فی علوم القرآن‘‘ کے نام سے کتاب تالیف کی۔
انہوں نے ’’جمہوریت کے بارے میں اسلام کا موقف‘‘، ’’امت واحدہ کا مفہوم‘‘ اور ’’تعصب‘‘ جیسے موضوعات پر تحقیقی مقالے بھی لکھے ہیں۔
العبادی نے انگریزی زبان میں تفسیر قرآن کے سلسلے میں بھی تحقیقی مقالات تحریر کئے ہیں۔
حیدر العبادی عراق کے معروف ڈاکٹر اور بغداد کے الجملہ ہسپتال کے مینیجر جواد العبادی کے بیٹے ہیں جنہیں 1979 کو بعثی حکومت کی مخالفت کے جرم میں 41 دیگر ڈاکٹروں کے ہمراہ ریٹائرڈ کر دیا گیا جس کے بعد وہ لندن منتقل ہو گئے اور آخر کار لندن میں انتقال کر گئے جس کے بعد صدام حکومت نے ان کی لاش کو بھی عراق لانے سے منع کر دیا اس وجہ سے وہ لندن میں ہی مدفون ہیں۔
العبادی جو 1967 سے حزب الدعوۃ السلامیہ کے رکن ہیں گزشتہ چند سالوں سے اس پارٹی کے اسپیکر بھی رہے ہیں۔
العبادی عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام کے دور حکومت میں اس حکومت کے سخت ترین مخالفین میں سے تھے اس وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا اور اسی جرم میں 1983 میں صدام نے حکومت مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے ان کا پاسپورٹ باطل کر دیا تھا۔
العبادی کے دو بھائیوں کو 1980 میں حزب الدعوۃ کا رکن ہونے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا جنہیں بعد میں پھانسی دے دی گئی تھی۔
1981 میں العبادی کا تیسرا بھائی جو بغداد کے میڈیکل کالج میں زیر تعلیم تھا کو گرفتار کر لیا گیا اور دس سال جیل کی سزا دے دی گئی۔
العبادی ہمیشہ سے سیاسی سرگرمیوں میں مشغول تھے اور 2003 میں عراق کے وزیر مواصلات کے عنوان سے کیبنٹ میں داخل ہوئے۔
2005 میں وہ عراق کے وزیر اعظم کے مشیر منتخب ہوئے اور کئی ایک ذمہ داریوں کو انہیں سونپ دیا گیا ان کی ایک اہم ذمہ داری یہ تھی کہ وہ عراقی مہاجرین کی مشکلات کو حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ سے رابطہ رکھتے تھے۔ اور2006 میں عراق میں ایوان نمائندگان کے ایک نمائندے کے طور پر منتخب ہوئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲