اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما کے پہلے دور صدارت میں ان کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے انکشاف کیا ہے کہ باراک اوباما نے داعش دہشت گرد گروہ کو جنم دیا ہے، ہلیری کلنٹن نے جو بظاہر خود کو امریکہ کے آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے تیار کر رہی ہیں، کہا کہ باراک اوباما کے نظریات اور اقدامات اس بات کا باعث بنے کہ دہشت گرد اور تشدد پسند گروہ داعش نے شام اور عراق کے بعض علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے شام کے بارے میں باراک اوباما کی غلطیوں اور بشار اسد کی حکومت کے ساتھ نمٹنے میں ان کی سستی کو داعش کے وجود میں آنے کا اصلی سبب قرار دیا۔
ہلیری کلنٹن کا یہ بیان ممکنہ صدارتی امیدوار ہونے کے مسئلے سے قطع نظر دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے سلسلے میں امریکی سیاستدانوں کی ناراضی کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکی صدر کی قریبی ساتھی اور ان کی وزیر خارجہ رہ چکی ہلیری کلنٹن کی جانب سے خود باراک اوباما کو داعش کے وجود میں آنے کا ذمہ دار ٹھہرائے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں اعتراضات کا دائرہ ریپبلکنز سے باہر نکل کر امریکی رائے عامہ تک پھیل گيا ہے۔
ہلیری کلنٹن سمیت اوباما کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کا خیال ہے کہ امریکی حکومت نے شام میں اپنے اصلی مقصد کو حاصل کرنے یعنی بشار اسد کی حکومت کے خاتمے اور مغرب نواز حکومت کو برسراقتدار لانے کے لیے ہر قسم کی سوچ رکھنے والے گروہوں کی مدد کی۔ البتہ شاید شام میں بحران شروع ہونے کے ابتدائی مہینوں میں جبہۃ النصرۃ اور داعش کے نام سے جانے جانے والے گروہوں کے اقدامات کھل کر منظرعام پر نہیں آئے تھے لیکن اس کے باوجود اس وقت بھی القاعدہ اور اس سے وابستہ افراد کو بشار اسد کے مخالفین کی صف میں دیکھا جا سکتا تھا۔ ایک عرصہ تک یہ گروہ مغربی اور عرب اتحاد سے پیسہ اور ہتھیار وصول کرتے رہے اور انہی وسائل کی مدد سے انہوں نے شام کے بعض علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا۔
شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور یورپ نے یہ فرض کر لیا تھا کہ انتہا پسندوں اور تشدد پسندوں سمیت بشار اسد کے مخالفین کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور بشار اسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اقتدار کی منتقلی کے عمل میں مغرب نواز اور سیکولر طاقتیں فاتح میدان ہوں گی۔ لیکن بعد کے حالات نے بتا دیا کہ مغرب نے شام پر جو جنگ مسلط کی تھی اس کے نتیجے میں عصر حاضر کا ایک خونخوار ترین گروہ داعش کے نام سے وجود میں آیا ہے۔
اوباما پر تنقید کرنے والوں کا یہ بھی خیال ہے کہ حتی کچھ عرصہ قبل تک امریکی صدر داعش کی تخریب کاری اور تشدد کی طاقت پر یقین نہیں رکھتے تھے اور انہوں نے داعش اور القاعدہ کا موازنہ کرتے ہوئے داعش کو یونیورسٹی سطح کی ایک باسکٹ بال ٹیم جبکہ القاعدہ کو پیشہ ور باسکٹ بال ٹیم این بی اے سے تشبیہ دی تھی۔ جبکہ داعش نے جو قتل و غارتگری اور دہشت کا بازار گرم کیا ہے اس کا القاعدہ کے اقدامات سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی لاتعلقی اور سہل انگاری میں ایک نیا خونخوار گروہ عراق اور شام کے بیابانوں میں ایک ایسے مقام پر پہنچ گیا ہے کہ جس کے سر میں خلافت کا سودا سمایا ہوا ہے اور اس نے دھمکی دی ہے کہ وہ لندن اور واشنگٹن میں اپنا پرچم لہرائے گا۔ اگرچہ اس قسم کے دعوے مجذوب کی بڑ سے مشابہت رکھتے ہیں لیکن ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغرب کا نیا بغل بچہ کس قدر جاہ طلب اور تشدد پسند ہے۔
یہ بات مسلم ہے کہ تاریخ کا دولت مند اور امیر ترین دہشت گرد گروہ باراک اوباما کے دور صدارت میں وجود میں آیا ہے اور بعض لوگ عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا اور عالمی بحرانوں میں مداخلت سے گریز کرنے کی بنا پر باراک اوباما پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔
بہرحال حالیہ چند برسوں کی تاریخ پر ایک نظر ڈالنے سے بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ دنیا میں داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کی پیدائش میں امریکی ہاتھ ہی کارفرما رہا ہے۔
.......
/169