7 اگست 2014 - 12:53
روسی صدر نے سیکیورٹی اور اقتصادی آرڈیننس پر دستخط کر دیئے

روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے روس کے خلاف مغربی ملکوں کی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کی خاص تدابیر کے آرڈیننس پر دستخط کردئے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے روس کے خلاف مغربی ملکوں کی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کی خاص تدابیر کے آرڈیننس پر دستخط کردئے ہیں۔ پوتین نے بدھ کے روز چھے اگست کو اس آرڈی ننس پر دستخط کئے ہیں جسے روس کی سکیورٹی کے تحفظ کے لئے خصوصی اقتصادی تدابیر کا نام دیا گيا ہے۔ صدر پوتین کے حکم کے مطابق یہ تدابیر روس کے مفادات کا تحفظ کرنے کےلئے اختیار کی جائيں گي اور گذشتہ روز ہی سے قابل عمل ہوچکی ہیں۔ صدر پوتین کے حکم کے مطابق جن ملکوں نے روس پر پابندیاں عائد کی ہیں ان سے ایک برس تک کسی بھی طرح کی غذائي اشیاء درامد نہ کی جائیں۔ انہوں نے حکومت سے کہا ہے کہ ایسی تمام اشیاء کی مکمل فہرست بنائي جائي جو پابندیاں عائد کرنے والے ملکوں سے درآمد کی جاتی ہیں۔ روسی صدرنے اس حکم پر دستخط کرنے سے پہلے حکومت کو خصوصی احکامات جاری کردئے تھے کہ غذائي اشیاء کی قیمتیں بڑھنے سے روکی جائيں اور اس امر کا سد باب کیا جائے۔ واضح رہے امریکہ اور یورپی یونین نے گذشتہ مہینوں سے یوکرین کے مسئلے پر روسکے خلاف پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔ وائٹ ہاوس نے روس کی جوابی کاروائي پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کی جانب سے امریکہ کی زرعی مصنوعات پر پابندی لگانے سے روس مزید الگ تھلگ ہوجائے گا۔ اس سے قبل ریانووستی نے روس کے ایک اعلی عھدیدار کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ روس امریکہ کی تمام زرعی مصنوعات کی درآمدات بند کرنے والا ہے۔واضح رہے روس نے کہا ہےکہ مغرب کی پابندیوں کی وجہ سے یوکرین کے تعلق سے روس کے موقف میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں آئے گي۔ ادھر امریکی صدر اوباما نے دعوی کیا ہےکہ امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے روس کی معیشت ٹہراؤ کاشکار ہوگئي ہے۔ روس کی جانب سے مغرب ملکوں کی زرعی مصنوعات پر پابندی لگانےسے بعض یورپی ملکوں کوشدید تشویش لاحق ہوگئي ہے۔ یونان نے روس کے اس فیصلے کے بعد ہنگامی اپنی وزارت خارجہ اور وزارت زراعت کی ہنگامی میٹنگ طلب کی تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق یونان کی زرعی مصنوعات کا ایک بڑا حصہ روس کو بھیجا جاتا ہے۔ یونان سالانہ چار سو چھے میلن یورو کی زرعی مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ ادھر فنلینڈ کے وزیر اعظم نے کہا ہےکہ روس پر امریکہ اور یورپی یونین کی پابندیوں کی وجہ سے ان کاملک اقتصادی بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے ملک کو پابندیوں کی وجہ سے نقصان ہوا تو وہ خسارے کا مطالبہ کریں گے۔ فنلینڈ کے وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے ملک پر ان  پابندیوں سے بالواسطہ طور پر شدید نقصانات پہنچ سکتے ہیں  جبکہ دیگریورپی ملکوں کی نسبت  براہ راست پڑنے والے نقصانات کہیں زیادہ ہوسکتے ہیں۔ ادھر جرمنی نے بھی روس کی فضا میں یورپی پروازوں پر ممکنہ پابندی  کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ روس پر پابندیوں کے فیصلے کی بھرپور قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲