اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پانچ اگست سنہ 1988 عیسوی کو پاکستان کے ممتاز اور مجاہد عالم دین علاّمہ سید عارف حسین حسینی کو عالمی سامراج اپنے داخلی ایجنٹوں کے ذریعے نماز فجر کے موقع پر پشاور میں گولی مار کر شہید کردیا ۔وہ ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اور نوجوانی سے دینی تعلیم کا آغاز کیا ۔دینی تعلیم کی تکمیل کے لئے وہ پہلے عراق گئے اور پھر ایران آگئے ۔ عراق میں قیام کے دوران حضرت امام خمینی (رح) اور ان کے انقلابی نظریات سے واقف ہوئے ۔ شہید علاّمہ عارف حسین حسینی اسلامی انقلاب کے عروج کے زمانے میں ایران میں تھے اور مسلمان ایرانی عوام کے ساتھ ظالم شاہی حکومت کے خلاف جد وجہد میں شریک رہے جس کی وجہ سے حکومت ایران نے ان کو پاکستان بھیج دیا ۔ علاّمہ سید عارف حسین حسینی نے پاکستان میں دینی علوم کی نشر و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا ۔ سنہ 1984 میں ان کو صلاحیت و قابلیت کی وجہ سے پاکستان کے شیعوں کی قیادت کے لئے منتخب کیا گیا ۔اس کے بعد وہ پاکستان میں شیعہ ، سنی اتحاد کے لئے اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے ملک میں شیعوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے بھی کوشاں رہے ۔ علاّمہ حسینی کے ان ہی اقدامات نے پاکستان کے امن و امان اور اتحاد کے دشمنوں کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کردیا اور بالآخر آج کے دن آپ کو شہید کردیا گيا۔
.......
/169