اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی اخبار ہاآرتص کی تازہ تحقیقی رپورٹ میں غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس مخالف فلسطینی مسلح گروہوں کے درمیان تعاون کے پوشیدہ پہلو سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یہ گروہ صرف حماس کے خلاف کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ غزہ کے فلسطینی شہریوں کو دبانے اور انہیں ان کے علاقوں سے بے دخل کرنے میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔
ہاآرتص کے مطابق، اسرائیل کا ان مسلح گروہوں کے ساتھ تعاون صرف معلومات کے تبادلے تک محدود نہیں بلکہ بعض زمینی کارروائیوں میں بھی ان گروہوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی فوجی مدد سے یہ گروہ حماس کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں سرگرم ہیں اور بعض کارروائیوں کے دوران انہیں اسرائیلی فوج کی فضائی اور فوجی معاونت بھی حاصل رہی ہے۔
ہاآرتص نے غزہ میں حماس کے داخلی سلامتی کے ذمہ دار معین العربید کی گرفتاری کے لیے کی جانے والی حالیہ کارروائی کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اخبار کے مطابق، اسرائیلی فوج اور داخلی سلامتی کے ادارے شاباک نے اسے ایک خصوصی سکیورٹی کارروائی قرار دیا، تاہم فلسطینی مسلح گروہوں نے بھی اس کارروائی میں کردار ادا کیا اور اسرائیلی فوج نے ان کی معاونت کے لیے فضائی حملے کیے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان گروہوں کی سرگرمیاں حماس کے خلاف کارروائیوں تک محدود نہیں رہیں۔ بعض علاقوں میں فلسطینی شہریوں کو دھمکانے اور ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
ہاآرتص نے اسرائیلی اور فلسطینی ذرائع اور اقوام متحدہ سے منسوب معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان گروہوں کے ارکان بعض علاقوں میں گھروں میں داخل ہوئے، فائرنگ کی، املاک لوٹیں اور بعض مکانات کو آگ بھی لگائی۔
صہیونی اخبار کے مطابق، اسرائیل نے غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد 2023ء سے ہی حماس کی مخالفت کرنے والے قبائلی اور مسلح گروہوں کو فعال کرنے کی کوشش شروع کر دی تھی۔ اس سلسلے میں بعد ازاں غزہ کے مختلف علاقوں میں کم از کم پانچ بڑے مسلح گروہ بھی وجود میں آئے، جن میں بعض کے ارکان کی تعداد سینکڑوں تک ہے اور ان کے مراکز اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کے قریب قائم ہیں۔
تاہم ہاآرتص نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی حکام میں سے بعض ان گروہوں کو حماس کا حقیقی متبادل نہیں سمجھتے اور ان کے خیال میں یہ گروہ آزادانہ طور پر حماس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ گروہ ایک آزاد فوجی قوت کے بجائے اسرائیلی فوجی حمایت پر انحصار کرتے ہیں اور اسرائیل انہیں غزہ کے زیرِ قبضہ علاقوں میں پیدا ہونے والے سکیورٹی خلا کو پُر کرنے اور اپنے مقاصد آگے بڑھانے کے لیے ایک عارضی آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ