ابنا: رپورٹ کے مطابق، محمد جواد ظریف نے ویانا میں گزشتہ رات 12 ویں روز کے مذاکرات کے اختتام پر اپنے امریکی اور یورپی ہم منصبوں سے ملاقات کے بعد کہا کہ ان مذاکرات میں اس بات کی کوشش کی گئی کہ ویانا میں وزرائے خارجہ کی موجودگی سے مسئلہ کے حل کے لئے نئے طرز اور نظریہ تلاش کئے جائیں۔
ایران کے وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ ابھی ہم کسی معاہدے پر نہیں پہنچے ہیں لیکن طے ہوا ہے کہ مذاکرات جاری رہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ امریکہ کے وزیر خارجہ ویانا میں موجود رہیں اور دو طرفہ مذاکرات جاری رہیں۔ اتوار کو وزیر خارجہ نے امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ دو طرفہ مذاکرات کئے۔
اس سے پہلے زیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا تھا کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک، آئندہ اتوار تک تاریخی نتائج تک پہنچ سکتے ہیں۔
انہوں نے اتوار کو اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر ٹویٹ کیا تھا کہ مذاکرات کرنے والے دونوں فریق کے درمیان اعتماد کی بحالی اور مفاہمت تک پہنچنے کے راستوں میں پائی جانے والی تشویش کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ جوہری مذاکرات کے اس مرحلے میں ہم اس بات کی ممکنہ حد تک کوشش کریں گے کہ گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ کسی جامع معاہدے تک پہنچا جائے۔
.......
/169