ابنا: ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان آج سے ویانا میں چھٹے دور کے مذاکرات شروع ہورہے ہیں۔ فریقین کے درمیان مذاکرات کا یہ دور، حتمی سمجھوتے کے حصول کیلئے طے کی جانے والی مقررہ تاریخ یعنی بیس جولائی تک جاری رہے گا۔ اسلامی جمہوریہ ایران، جامع سمجھوتے کے حصول کیلئے مکمل سیاسی عزم و ارادے کا حامل ہے مگر سوال یہ ہے کہ مقابل فریق میں بھی، کیا ایسا عزم پایا جاتا ہے؟ اور آیا دو ہفتوں تک جاری رہنے والے ان مذاکرات سے تہران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان گذشتہ دو عشروں سے جاری اختلاف و تنازعہ کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے؟ ویانا مذاکرات کے موقع پر ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے، خیالی پلاؤ پکانا بند کرو اور موقع کو غنیمت سمجھو کے زیر عنواں، اپنے ایک مقالے میں، جو فرانسیسی جریدے لے مونڈ میں شایع بھی ہوا ہے، مذاکرات کے اس دور کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ مذاکرات اسی صورت میں کامیاب ثابت ہوسکتے ہیں کہ جب تمام فریق، عارضی سمجھوتے میں طے پانے والے تمام نکات کے حوالے سے قابل قبول راہ حل تلاش کرنے کے پابند بنیں۔ اس بات کی ضمانت کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن رہے گا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تمام پابندیوں کا خاتمہ، چھٹے دور کے مذاکرات کے اہم ترین موضوعات شمار ہوتے ہیں۔ محمد جواد ظریف نے اپنے مقالے میں لکھا ہے کہ صرف دور اندیشی اور منطقی جائزے سے ہی کامیابی کی ضمانت فراہم کی جاسکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ خیال بافی اور غلط اندازے اور تخمینے، میسر ہونے والے موقع کو ضایع کرسکتے ہیں۔ مشترکہ اقدام کا منصوبہ، اس سمجھوتے کے سلسلے میں پہلا قدم تھا، جو چوبیس نومبر سند دو ہزار تیرہ کو طے پایا۔یہ سمجھوتہ، دو اہم اصولوں کا حامل ہے۔پہلے یہ کہ مغرب، جوہری مسئلے میں ایران کے جوہری حق کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے اور دوسرے یہ کہ ایران، اس بات کو ثابت کرنے کیلئے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے، مشترکہ اقدام کے تناظر میں روائتی اقدامات عمل میں لائے۔ ان اقدامات پر نگرانی کے ایک ادارے کی حیثیت سے ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی نے بھی اپنی نئی رپورٹ میں مشترکہ اقدام کے منصوبے پر ایران کے کاربند ہونے کی تصدیق اور اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایران نے آئی اے ای اے کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے۔ اس مفاہمت سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں پر عمل کرنا ایران کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اور اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ ایران، جوہری ہتھیاروں کے خلاف ہے جبکہ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے ساتھ مکمل مفاہمت بھی اس حقیقت کی تصدیق کے مترادف ہے کہ ایران کے پاس چھپانےکیلئے کچھ بھی نہیں ہے۔ سنہ دو ہزار سات اور سنہ دو ہزار بارہ میں امریکی انٹلی جنس ادارے کی رپورٹوں سے اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ ایران کا کوئی خفیہ جوہری پروگرام نہیں رہا ہے۔ مسلمہ امر یہ ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن ہے جس کا مقصد بجلی، طبی اور زراعت کے شعبوں میں جوہری توانائی سے استفادہ کرنا ہے اور جیساکہ ایران کے وزیر خارجہ نے بھی کہا ہے کہ اخلاقی و مذہبی عقائد نیز منطقی تخمینوں کی بنیاد پر ایران کو فوجی ایٹمی پروگرام سے دور رہنے میں، کافی مدد ملی ہے۔ بنابریں مغرب کے دعوے کے برخلاف، ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی اعتبار سے خطرہ نہیں ہے اور مغرب، اپنے سیاسی مقاصد کی غرض سے ایران کے جوہری پروگرام کو خطرناک ظاہر کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔اس وقت ویانا مذاکرات، طویل مدت اعتماد کو مضبوط بنانے اور مکمل سمجھوتے کے حصول کیلئے ایک اطمینان بخش موقع ہے تاہم اس سلسلے میں تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے مستقبل پر توجہ اور اس حوالے سے ماضی سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔لیکن وہ خیال بندی کہ جس کی طرف ایران کے وزیر خارجہ نے اشارہ بھی کیا ہے اور اور جو،گروپ پانچ جمع ایک کے بعض رکن ممالک میں پائی بھی جاتی ہے، مذاکرات میں منطق پر حاوی ہوئے، تو یقینا کسی ایک کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔البتہ قرائن و شواہد، اس بات کے ترجمان ہیں کہ فریقین، اس حقیققت کو جانتے ہیں کہ مذاکرات اگر کامیاب نہیں ہوئے تو یہ دونوں فریقوں کی شکست ہوگی۔ممکنہ طور پر مغرب، مذاکرات میں زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرنے کیلئے اس بات کی کوشش کرسکتا ہے کہ مذاکرات کا وقت مزید بڑھادیا جائے تاکہ اس بات پر مجبور نہ ہو کہ چھے مہینے کی مقررہ وقت میں سمجھوتہ طے کیا جائے تو اس بارے میں بھی، یہ کہا جاسکتا ہے کہ تجربے سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ پابندیوں، دھونس دھمکیوں اور یا مذاکرات کا وقت بڑھائے جانے سے موجودہ صورت حال میں کوئی تبدیلی رونما نہيں ہوگی۔ اسلئے توقع کی جاتی ہے کہ آخری قدم کے طور پر منطق کی بنیاد پر کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنا، ویانا کے چھٹے دور کے مذاکرات کی ترجیحات میں ہوگا۔
.......
/169