28 جون 2014 - 12:50
شام ميں دہشتگردوں کے خلاف فوج کا آپريشن

شام ميں فوج نے حلب کے جنوبي اور شمالي علاقوں کو دہشتگردوں سے آزاد کراليا ہے

ابنا: شام ميں فوج نے حلب کے جنوبي اور شمالي علاقوں کو دہشتگردوں سے آزاد کراليا ہے ۔ اسي کے ساتھ مزيد ايک سو چھہتر مسلح افراد نے ہتھيار زمين پر رکھ کے خود کو فوج کے حوالے کرديا ہے ۔

شامي فوج نے حلب کے نواحي علاقوں کو دہشت گردوں کے وجود سے پاک کرنے کي کاروائي شروع کردي ہے۔ اطلاعات کے مطابق شام کي مسلح افواج نے حلب کے جنوبي اور شمالي علاقوں ميں دہشت گردوں کو شکست دينے کے بعد ان علاقوں پر کنٹرول حاصل کرليا ہے۔
الصناعيہ سٹي ميں واقع قصبے "الشيخ زيارت" پر فوج نے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اس علاقے ميں بچھائي گئي بارودي سرنگوں کو ناکارہ بنانے کي کاروائي شروع کردي ہے۔ اسي طرح کي ايک اور کاروائي کے دوران شامي فوجيوں نے حلب کے مضافاتي علاقے کفر حمرا ميں نام نہاد فري سيرين آرمي سے موسوم دہشت گردوں کو بھاري جاني اور مالي نقصان پہنچايا ہے۔
اس کاروائي کے دوران مغرب کے حمايت يافتہ دسيوں دہشت گرد مارے گئے ہيں۔ شامي فوجيوں نے القلمون کے علاقے ميں بھي ايک بھرپور کاروائي کرکے لبنان کي سرحد سے ملحقہ کئي علاقوں کو دہشت گردوں سے آزاد کراليا ہے۔ اس کاروائي ميں کم ازکم بيس دہشت گرد مارے گئے ہيں۔ دوسري جانب درعا کے علاقے ميں شامي فورسز اور دہشت گرد گروہ داعش کے درميان شديد لڑائي کي اطلاعات موصول ہوئي ہيں جہاں سيکورٹي فورسز کے ہاتھوں جھبتہ النصرہ کا ايک اہم کمانڈر مارا گيا ہے۔ حما سٹي ميں بھي شامي فوج اور مسلح دہشت گردوں کے درميان ايک شديد جھڑپ ہوئي ہے۔ اس دوران القنطرہ، القصب، الحمرات، ديرحنا، غمام اور ربيعہ کے علاقوں ميں ہونے والي لڑايي ميں بڑي تعداد ميں دہشت گرد مارے گئے ہيں۔
دريں اثنا العالم نے رپورٹ دي ہے کہ دمشق اور اس نواحي علاقوں حسکہ اور دير الزور کے علاقوں ميں ايک سو سولہ مسلح دہشت گردوں نے ہتھيار ڈالنے کے بعد خود کو سرکاري فوج کے حوالے کرديا ہے۔ جبکہ اس سے قبل صوبہ حمص کے علاقے " دحيرج" ميں ساٹھ افراد نے ہتھيار ڈالدئے تھے ۔
اس رپورٹ کے مطابق ان افراد کو آئندہ ہتيار نہ اٹھانے اور ملکي سلامتي کے خلاف کسي قسم کا اقدام نہ کرنے کے وعدے کے بعد رہا کرديا گيا۔ ايک اور خبر کے مطابق حمص کے علاقے الوعر ميں مسلح دہشت گردوں اور فوج کے درميان جنگ بندي کے بعد اس علاقے ميں موجود عام شہريوں کے لئے انسان دوستانہ امداد کي فراہمي کي راہ ہموار ہوگئي ہے۔ واضح رہے کہ ہزاروں عام شہريوں نے جنگ ميں شدت کے بعد حمص کے قديمي علاقے "الوعر "ميں پناہ لے رکھي ہے۔

.......

/169